خیبر پختونخوا میں طرز حکمرانی اور سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال، وفاقی مداخلت ناگزیر قرار

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں حکمرانی اور سیکیورٹی کی صورتحال سے متعلق ایک تشویشناک رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں صوبائی حکومت کی کارکردگی، بدعنوانی اور امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں اور وفاقی حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

گورننس کی ناکامی اور بدعنوانی

رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومتی مشینری صورتحال سنبھالنے میں ناکام ہے اور عوامی و سیکیورٹی خدشات کو دور کرنے کے بجائے صرف سیاسی معاملات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ اعلیٰ سے لے کر نچلے درجے تک بدعنوانی پھیلی ہوئی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں مقامی کاروبار شدید دباؤ کا شکار ہیں اور عام آدمی کی مالی حالت مسلسل خراب ہو رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں ساڑھے 12 سال سے ایک حکومت ہے لیکن ترقی کا فقدان ہے، عطا اللہ تارڑ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے سابقہ فاٹا یعنی ضم شدہ اضلاع کا ایک بار بھی دورہ نہیں کیا ہے جس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب تک کا تمام بجٹ کہاں گیا۔ صوبے میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے کو شروع یا مکمل کرنے میں ناکامی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

سیکیورٹی کے 3 محاذ

رپورٹ میں سیکیورٹی کے تناظر میں صوبے کو 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

جنوبی خیبر پختونخوا: پنجاب اور بلوچستان سے ملحقہ جنوبی علاقے بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

وسطی خیبر پختونخوا: یہ علاقہ اب زیادہ بڑا سیکیورٹی خطرہ بن چکا ہے جہاں ایندھن اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کے گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ حملے اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ دہشتگرد سندھ ہائی وے کو کاٹنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اس علاقے میں امریکا ایران جنگ کے ممکنہ اثرات کے پیش نظر فرقہ وارانہ مسئلہ پیدا ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

شمالی خیبر پختونخوا: باجوڑ سے چترال تک شمالی پٹی دہشت گردوں کے ایجنڈے کا مرکز ہے تاکہ اہم شاہراہوں کو بند کر کے شمال کی جانب پیش قدمی کی جائے یہی وجہ ہے کہ سوات، شانگلہ اور بونیر تک پھیلنے کی کوشش کی گئی۔ باجوڑ اور دیر کے اضلاع میں داعش خراسان کے خطرے کا سایہ بھی منڈلا رہا ہے۔

وفاقی مداخلت کیوں ضروری ہے؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر رہی ہے بلکہ انہیں سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ جرائم پیشہ نیٹ ورکس اور غیر قانونی معیشت کی براہ راست اور بالواسطہ سرپرستی کی جا رہی ہے دہشتگردوں کو بھتہ دیا جا رہا ہے اور تیل کے اہم بنیادی ڈھانچے اور مواصلاتی شاہراہوں کو تحفظ دینے میں ناکامی ہو رہی ہے۔

مزید پڑھیے: لاہور نے پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو مسترد کر دیا، گورنر فیصل کریم کنڈی

مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہے، پولیس میں موجود باغی عناصر کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے اور تحریک انصاف کے عہدیداروں کی جانب سے وفاق اور عوام دشمن دھمکیاں دی جا رہی ہیں جو قومی سلامتی، استحکام اور سالمیت کو متاثر کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال اور مجوزہ احتجاج معیشت کی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچائیں گے۔ وزیر خزانہ کے مطابق ایک دن کے احتجاج سے 120 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے۔

آئینی آپشن

رپورٹ کے خلاصے میں کہا گیا ہے کہ حکمرانی کا فقدان، ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد میں ناکامی، فورس کے حوصلے کو جان بوجھ کر پست کرنا، استحکام میں مدد دینے میں ناکامی، امن و امان میں عدم دلچسپی، دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف عدم کارروائی، جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی سرپرستی، اداروں کے درمیان دراڑ پیدا کرنا اور پولیس و انتظامیہ میں باغی عناصر کے خلاف کارروائی نہ کرنے کے باعث صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی فلاح اور وفاق پاکستان کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خیبر پختونخوا کی آبادی تقریباً 5 کروڑ ہے جس میں سے تقریباً ڈھائی کروڑ مرد اور ڈھائی کروڑ خواتین ہیں لیکن صوبائی حکومت نے ان سب کو نظر انداز کر کے اپنی ترجیحات ایک مرد اور 3 خواتین تک محدود رکھی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا کے زیادہ تر مریض علاج کروانے پمز کیوں آتے ہیں؟

آخر میں کہا گیا ہے کہ امن و امان کی ناکامی اور عوامی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر آئین کے آرٹیکل 234 یعنی گورنر راج اور آرٹیکل 232 یعنی سیکیورٹی ایمرجنسی کے نفاذ پر غور کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آئندہ 6 ماہ پاکستان میں ہاکی کے میدان آباد رہیں گے، متعدد بین الاقوامی ایونٹس متوقع

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانس کے سیکریٹری جنرل برائے دفاع کی ملاقات، تعاون کو وسعت دینے کا عزم

حرمین شریفین کی حرمت، سلامتی اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، طاہر اشرفی کی زیرصدارت اجلاس میں علما و مشائخ کا متفقہ فتویٰ

سونا چاندی سستے ہوگئے، بھاؤ کیا رہا؟

پاکستانی روپیہ قدم بہ قدم ترقی کی جانب گامزن، ڈالر اور بٹ کوائن کتنے کے؟

ویڈیو

’بڑا ہوکر اپنے والد کی طرح پولیس افسر بنوں گا‘، شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے ایمل کا عزم

تحریک انصاف کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، عمران خان مذاکرات کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان

27 ستمبر احتجاج: پی ٹی آئی کے مکمل خاتمے کا پلان؟ محسن نقوی نے وارننگ دیدی

کالم / تجزیہ

سید مودودیؒ آج بھی کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟

اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے

سومنات: جب تاریخ سیاسی نعرہ بن جائے