حرمین شریفین کی حرمت، سلامتی اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، طاہر اشرفی کی زیرصدارت اجلاس میں علما و مشائخ کا متفقہ فتویٰ

منگل 22 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان علما کونسل کے مرکزی چیئرمین اور انٹرنیشنل تعظیم حرمین شریفین کونسل کے سیکریٹری جنرل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی زیر صدارت اسلام آباد میں تمام اسلامی مکاتب فکر کے علما، مشائخ اور مفتیان کرام کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں حرمین شریفین، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی سلامتی، حرمت، استحکام اور دفاع کے حوالے سے متفقہ اور دوٹوک مؤقف اور فتویٰ جاری کیا گیا۔

اجلاس نے مملکت سعودی عرب کے حوالے سے حکومتِ پاکستان اور ریاستِ پاکستان کی پالیسی کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اخوت، اعتماد اور تاریخی رشتوں پر قائم ہیں۔ مملکت سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے ریاستِ پاکستان کا مؤقف پوری پاکستانی قوم کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔

اجلاس میں مولانا سید ضیااللہ شاہ بخاری، مفتی مولانا ڈاکٹر آصف میر، مفتی زبیر فہیم، مولانا زاہد منصور، مولانا ذوالفقار احمد، مولانا ابوبکر صابری، مولانا عبدالحادی، مولانا طاہر عقیل، مولانا قاسم قاسمی، مولانا نائب خان، مولانا سعد عزاروی، مولانا سید محمد افضل شاہ نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ مولانا شہباز احمد، حافظ محمد طارق محمود، مولانا ابراہیم حنفی، مولانا انوار اللہ مجاہد، مولانا عبدالمالک آصف، مولانا بلال حفیظ، قاری نصیر احمد، مفتی محمد عمر فاروق، مولانا قاری اسامہ، مفتی فلق شیر، مولانا نثار احمد، مولانا اسلم صدیقی اور مولانا محمد اشفاق پتافی سمیت مختلف مکاتب فکر کے علما، مشائخ، مفتیان کرام اور شیوخ الحدیث بھی شریک ہوئے۔

اجلاس کے شرکا نے حوثی قیادت اور حوثی مفتی کی جانب سے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور مملکت سعودی عرب کے خلاف حملوں اور دھمکیوں سے متعلق بیانات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ حرمین شریفین کو نشانہ بنانے، ان کے امن کو خطرے میں ڈالنے یا ان کے خلاف جارحیت کی دھمکی دینا غیر شرعی، غیر اسلامی اور ناقابل قبول ہے۔ حوثی قیادت کو ایسی اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیان بازی سے باز آنا چاہیے۔

اجلاس نے مملکت سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے خلاف دھمکیوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ مضبوط اور خودمختار ممالک ہیں اور اپنی سرزمین، عوام اور قومی سلامتی کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اہم ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ مملکت سعودی عرب اور پاکستان کا مسئلہ فلسطین پر مؤقف واضح، تاریخی اور امت مسلمہ کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ جو قوتیں فلسطین کے نام کو اپنے سیاسی اور علاقائی مقاصد کے لیے استعمال کرکے مسلمانوں میں تقسیم پیدا کرنا چاہتی ہیں، ان کے کردار کو ان کے عملی اقدامات سے پرکھا جانا چاہیے۔

’ایک طرف اسرائیلی جہازوں کو سمندری راستوں سے گزرنے دیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب سعودی عرب اور دیگر عرب و اسلامی ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘

اجلاس کے شرکا نے کہا کہ ایسے عناصر فلسطین کے مقدس نام کو استعمال کرکے امت مسلمہ میں انتشار پیدا اور اسلامی و عرب ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

علما و مشائخ نے واضح کیاکہ حرمین شریفین کا تحفظ شیعہ سنی تنازع نہیں اور نہ اسے کسی مسلکی یا فرقہ وارانہ کشمکش میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تمام مسلمانوں کے مقدسات ہیں اور ان کی سلامتی و حرمت پوری امت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اجلاس نے دنیا بھر کے علما، مشائخ اور مفتیان کرام سے اپیل کی کہ وہ حرمین شریفین کی سلامتی و استحکام کے لیے خادم الحرمین الشريفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں مملکت سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں اور حرمین شریفین کے خلاف ہر قسم کی دھمکی اور جارحیت کو متفقہ طور پر مسترد کریں۔

اجلاس نے متفقہ فتویٰ جاری کرتے ہوئے قرار دیاکہ حرمین شریفین کی حرمت، سلامتی اور استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کا امن پوری امت مسلمہ کے لیے خطِ احمر ہے۔

فتویٰ میں کہا گیا کہ اگر کوئی قوت، ملک، تنظیم یا فرد مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ یا ارضِ حرمین شریفین پر حملہ آور ہوتا ہے تو حرمین شریفین کے دفاع، سلامتی اور استحکام کے لیے اس جارحیت کا مقابلہ کرنا شرعاً لازم ہوگا۔ ایسی صورت میں مملکت سعودی عرب اور حرمین شریفین کے دفاع کے لیے سعودی حکومت و قیادت کی جانب سے کیے جانے والے جائز دفاعی اقدامات کی حمایت اور قانونی و جائز احکامات پر شرعی اصولوں اور متعلقہ ممالک کے قوانین کے دائرے میں عمل کرنا ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کی ذمہ داری ہوگی۔

اجلاس نے واضح کیا کہ حرمین شریفین کا دفاع کسی ایک قوم، ملک یا مسلک کا معاملہ نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کی مشترکہ دینی ذمہ داری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب ایپکس کمیٹی اجلاس میں اہم بریفنگ: کچے کے علاقے میں  30 ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی پیکیج، کرپشن پر 718 پولیس اہلکار برطرف

میر رضا قتل کیس: ڈاکٹر سمیہ اور ڈاکٹر اسامہ کے درمیان لفظی جنگ، جوڈیشل کمیشن کا تحقیقات میں توسیع کا فیصلہ

آئندہ 6 ماہ پاکستان میں ہاکی کے میدان آباد رہیں گے، متعدد بین الاقوامی ایونٹس متوقع

فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فرانس کے سیکریٹری جنرل برائے دفاع کی ملاقات، تعاون کو وسعت دینے کا عزم

سونا چاندی سستے ہوگئے، بھاؤ کیا رہا؟

ویڈیو

’بڑا ہوکر اپنے والد کی طرح پولیس افسر بنوں گا‘، شہید ایس پی اکبر شنواری کے بیٹے ایمل کا عزم

تحریک انصاف کو احتجاج کے بجائے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے، عمران خان مذاکرات کے ذریعے ہی باہر آسکتے ہیں، سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان

27 ستمبر احتجاج: پی ٹی آئی کے مکمل خاتمے کا پلان؟ محسن نقوی نے وارننگ دیدی

کالم / تجزیہ

سید مودودیؒ آج بھی کیوں پڑھے جا رہے ہیں؟

اسلام آباد کو سومنات بنا دیں گے

سومنات: جب تاریخ سیاسی نعرہ بن جائے