ارجنٹائن کے صدر حاویئر میلیے نے اقوام متحدہ کو بیکار قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اقوام متحدہ ایک ایسے بیوروکریٹک نظام میں تبدیل ہو چکی ہے جو دنیا کے ممالک اور عوام کی زندگیوں میں مداخلت کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حاویئر میلیے نے عالمی ادارے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: ارجنٹائن میں فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، 7 افراد ہلاک
اپنی تقریر کا آغاز اقوام متحدہ کے قیام کے بنیادی مقاصد کو سراہتے ہوئے حاویئر میلیے نے کہا کہ تنازعات کا پرامن حل، عالمی آزادی اور انسانی وقار کا فروغ بلاشبہ ایک قابلِ احترام مقصد تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ادارہ اپنے بنیادی وعدوں سے دور ہوگیا ہے۔
ارجنٹائن کے صدر نے کہا کہ عملی طور پر اقوام متحدہ ایک ’بے کار ادارہ‘ بن چکی ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر خود کو اچھے ارادوں کے حامل بیوروکریٹس کے روپ میں پیش کرنے والے ایک مراعات یافتہ طبقے کو برقرار رکھنا ہے۔
🚨BREAKING: Argentina President Javier Milei just walked up to the mic at the United Nations and RIPPED THEM TO THEIR FACES:
"It's become a USELESS organization whose only purpose is to sustain a caste of fatefully arrogant PARASITES masquerading as well-intentioned… pic.twitter.com/LYDWj26utc
— MAGA Nation ™ (@MAGANationn) September 24, 2026
حاویئر میلیے نے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔
انہوں نے لاک ڈاؤن پالیسیوں کو سائنسی شواہد اور قومی خودمختاری کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض ریاستوں نے صحتِ عامہ کے نام پر شہریوں کے کام کرنے، تعلیم حاصل کرنے اور اپنے پیاروں کو آخری بار دیکھنے کے حقوق محدود کیے۔
مزید پڑھیں: فاک لینڈز کے بینر پر فیفا کا ایکشن، ارجنٹائن کے کھلاڑیوں کیخلاف تحقیقات شروع
انہوں نے کورونا وبا سے متعلق عالمی اقدامات کو ’سماجی کنٹرول کے ایک عالمی تجربے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے انتہائی سخت الفاظ استعمال کیے اور دعویٰ کیا کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں لاکھوں قابلِ تلافی اموات ہوئیں۔
ارجنٹائن کے صدر نے اقوام متحدہ پر عالمی امن اور انسانی حقوق کے تحفظ میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا۔

ان کے مطابق عالمی ادارے نے ایسے ممالک اور گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کیے جن پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دہشتگردی کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔
حاویئر میلیے نے اسرائیل سے متعلق اقوام متحدہ کے مؤقف پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عالمی ادارے نے اسرائیل کے خلاف بارہا ووٹ دیے جبکہ اسلامی دہشتگردی اور افریقہ میں مسیحیوں کے خلاف تشدد کے معاملے پر خاموشی اختیار کی۔
مزید پڑھیں: ’پانی کا ہر قطرہ اہم ہے‘: ارجنٹائن کے پگھلتے گلیشیئرز دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی
ارجنٹائن کے صدر نے فاک لینڈ جزائر سمیت ساؤتھ جارجیا، ساؤتھ سینڈوچ جزائر اور ان سے ملحقہ سمندری علاقوں کے معاملے کو بھی اقوام متحدہ کے لیے ایک امتحان قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے کی قراردادوں اور عملی اقدامات میں واضح فرق موجود ہے۔
حاویئر میلیے نے کہا کہ عالمی اداروں کے پاس الفاظ اور قراردادوں کی کمی نہیں، اصل مسئلہ ان پر عمل درآمد اور نتائج کا ہے۔
مزید پڑھیں: ارجنٹائن کی سپریم کورٹ کے تہہ خانے سے ہٹلر سے متعلق کیا برآمد ہوا؟
ان کے مطابق جو ادارہ اپنے الفاظ کو عملی دنیا میں مؤثر نہ بنا سکے، وہ بالآخر اپنی اتھارٹی کھو دیتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے موجودہ ڈھانچے کو ایک بڑے بیوروکریٹک نظام سے تشبیہ دی جو دنیا کے شہریوں کو یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ انہیں کس طرح زندگی گزارنی چاہیے۔
انہوں نے معروف ماہرِ معاشیات لڈوِگ فان میزس کے حوالے سے کہا کہ اچھے لوگ اپنے ہم وطنوں کی زندگیوں کو کنٹرول کرنے کے بارے میں نہیں سوچتے۔













