روس کے پہلے جنگی دور کے پارلیمانی انتخابات کے حتمی نتائج میں صدر ولادیمیر پیوٹن کی حمایت یافتہ حکمراں جماعت یونائیٹڈ رشیا نے 450 رکنی اسٹیٹ ڈوما میں 349 نشستیں جیت لی ہیں۔ انتخابات کو جدید روسی تاریخ کے انتہائی یکطرفہ انتخابات قرار دیا گیا ہے۔
مرکزی الیکشن کمیشن کی چیئرپرسن ایلا پامفیلووا نے جمعہ کو حتمی نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یونائیٹڈ رشیا نے 2016 میں حاصل کی گئی 343 نشستوں کی سابقہ ریکارڈ تعداد بھی پیچھے چھوڑ دی۔ دیگر جماعتوں میں کمیونسٹ پارٹی نے 37، لبرل ڈیموکریٹک پارٹی نے 23، نیو پیپل نے 19 جبکہ اے جسٹ رشیا نے 17 نشستیں حاصل کیں۔
یہ بھی پڑھیے روسی پارلیمانی انتخابات: الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم پر شدید سائبر حملوں کے باوجود پولنگ جاری
ایلا پامفیلووا کے مطابق پہلی مرتبہ یوکرین جنگ میں حصہ لینے والے سابق فوجیوں نے بھی پارلیمانی انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور ایسے 46 امیدوار اسٹیٹ ڈوما کے رکن منتخب ہوئے۔ صدر ولادیمیر پیوٹن ماضی میں جنگی سابق فوجیوں سے سیاست دان بننے والے افراد کو روس کی ’نئی اشرافیہ‘ قرار دے چکے ہیں۔
کریملن نے سابق فوجیوں کی کامیابی کا خیرمقدم کیا ہے۔
صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ’ہمارے ہیروز کا تجربہ انتہائی اہم ہے‘ اور انتخابی نتائج نے اس بات کی واضح تصدیق کردی ہے۔ تاہم آزاد روسی میڈیا کے مطابق نو منتخب سابق فوجی ارکان میں سے بعض پر یوکرین میں جنگی جرائم کے الزامات بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔














