کبھی غور کیا ہے کہ موبائل کا سگنل غائب ہوتا ہے تو صرف فون کال نہیں رکتی، کسی طالب علم کی کلاس چھوٹ جاتی ہے، کسی فری لانسر کا کام رک جاتا ہے، کسی تاجر کا آرڈر ضائع ہو جاتا ہے اور کسی کاروبار کی ایک دن کی کمائی متاثر ہو جاتی ہے۔
پاکستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ اب عیاشی نہیں، ضرورت بن چکے ہیں۔ مگر افسوس کہ کروڑوں صارفین ہر ماہ بھاری رقم ادا کرنے کے باوجود کمزور سگنل، کال منقطع ہونے اور سست انٹرنیٹ کی شکایت کر رہے ہیں۔ اگر کوئی شخص ماہانہ 4 ہزار روپے کا پیکیج استعمال کرتا ہے تو سالانہ 48 ہزار روپے صرف انٹرنیٹ پر خرچ کرتا ہے۔ تین افراد کا خاندان یہی خرچ کرے تو رقم ایک لاکھ 44 ہزار روپے سالانہ تک پہنچ جاتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہمیں رقم کے بدلے اتنی ہی معیاری سروس بھی مل رہی ہے؟
پاکستان میں موبائل صارفین کی تعداد 20 کروڑ سے زیادہ اور براڈ بینڈ صارفین 16 کروڑ سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ یعنی ملک کی ایک بہت بڑی آبادی تعلیم، روزگار، کاروبار اور رابطے کے لیے انٹرنیٹ پر انحصار کر رہی ہے۔ لیکن ایک تحقیقی جائزے کے مطابق صرف 2024 میں انٹرنیٹ کی بندش اور تعطل سے پاکستان کو تقریباً 1.62 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا اور کروڑوں صارفین متاثر ہوئے۔
یہ نقصان صرف اعداد و شمار نہیں۔ اس کے پیچھے حقیقی کہانیاں ہیں۔
ایک نوجوان بیرونِ ملک بیٹھے گاہک کے لیے کام کر رہا ہے۔ آخری وقت پر انٹرنیٹ بند ہوگیا، فائل نہ بھیجی جا سکی۔ ایک طالب علم آن لائن امتحان دے رہا ہے، رابطہ منقطع ہوگیا۔ ایک چھوٹا تاجر آن لائن آرڈر کی تصدیق کا منتظر ہے، مگر پیغام نہیں پہنچ رہا۔ ایک کمپنی اپنے دفتر سے رابطہ نہیں کر پا رہی۔ چند منٹ کا تعطل کسی کے لیے پورے دن کا نقصان بن سکتا ہے۔
سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور گھر بیٹھے کام کرنے والے نوجوان ملک کے لیے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ ایسے میں ناقص انٹرنیٹ ہماری اپنی ہی معیشت کے لیے رکاوٹ بن رہا ہے۔ ہم نوجوانوں کو کہتے ہیں کہ دنیا کے ساتھ مقابلہ کرو، بیرونِ ملک سے کام حاصل کرو، پاکستان کے لیے زرمبادلہ کماؤ؛ لیکن دوسری طرف انہیں وہ بنیادی سہولت بھی مسلسل فراہم نہیں کر پا رہے جس کے بغیر یہ کام ممکن نہیں۔
مسئلہ صرف موبائل کمپنیوں کا بھی نہیں۔ بجلی کی طویل بندش، موبائل ٹاورز کی چوری اور توڑ پھوڑ، کمزور فائبر نظام، ناکافی بنیادی ڈھانچہ اور بین الاقوامی رابطے کے محدود ذرائع اس بحران کی بڑی وجوہات ہیں۔ جون 2026 میں قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بعض علاقوں میں روزانہ 10 گھنٹے تک بجلی کی بندش موبائل ٹاورز کو متاثر کر رہی ہے۔ دوسری جانب سینیٹ کی ایک ذیلی کمیٹی کو 11 ماہ میں مواصلاتی نظام سے متعلق 9,200 سے زائد چوری اور توڑ پھوڑ کے واقعات سے آگاہ کیا گیا۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم اس مسئلے کو صرف ’’سگنل کا مسئلہ‘‘ سمجھنا بند کریں۔
حکومت اور متعلقہ اداروں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ صارف کو جس سروس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے، وہ اسے واقعی ملے۔ ہر علاقے میں انٹرنیٹ کی رفتار، سگنل کی دستیابی اور سروس میں تعطل کا ریکارڈ عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔ طویل بندش کی صورت میں صارف کو مناسب تلافی بھی ملنی چاہیے۔ موبائل ٹاورز کے لیے متبادل توانائی، فائبر نظام میں توسیع، مواصلاتی تنصیبات کی حفاظت اور بین الاقوامی رابطے کے مزید ذرائع پیدا کرنا بھی ناگزیر ہے۔
پاکستان کے پاس نوجوان، ہنرمند اور ٹیکنالوجی سے واقف آبادی موجود ہے۔ ہمارے نوجوان دنیا بھر میں بیٹھے لوگوں کے لیے کام کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے صرف ہنر کافی نہیں؛ قابلِ اعتماد انٹرنیٹ بھی چاہیے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت بنانا ہے۔ مگر ڈیجیٹل معیشت صرف موبائل ایپ بنانے یا نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے سے نہیں بنتی۔ اس کے لیے سب سے پہلے مسلسل، تیز اور قابلِ اعتماد انٹرنیٹ درکار ہے۔
کیونکہ آج جب سگنل جاتا ہے تو صرف فون خاموش نہیں ہوتا؛ کسی کی کلاس، کسی کا روزگار، کسی کا کاروبار اور کہیں پاکستان کی معیشت بھی رک جاتی ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














