آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) نے کشمیری عوام سے سیاسی ناانصافی اور بھارتی ریاستی پالیسیوں کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے۔
حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سری نگر سے جاری بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاسی آوازوں کو دبانے اور سیاسی سرگرمیوں کو محدود کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی طویل حراست، میڈیا پر قدغن، جائیدادوں کی ضبطی اور کشمیریوں کے سیاسی حقوق سلب کرنا اسی پالیسی کا حصہ ہیں۔
اے پی ایچ سی کے مطابق، نئی دہلی کے زیرِ کنٹرول نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)، اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے)، بھارتی پولیس اور نیم فوجی دستے مختلف علاقوں میں گھروں کی تلاشی لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مقبوضہ کشمیر: دریا کنارے خیموں میں زندگی گزارنے والے گجر بکر وال خاندان محفوظ رہائش سے محروم
حریت کانفرنس نے دعویٰ کیا کہ چھاپوں کے دوران گھروں میں موجود افراد کو ہراساں کیا جاتا ہے، جبکہ دستاویزات، بینک ریکارڈ اور موبائل فونز بھی قبضے میں لیے جاتے ہیں۔
بیان میں اے پی ایچ سی نے الزام عائد کیا کہ بھارتی حکومت قانون سازی اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے جموں و کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیوں کی راہ ہموار کر رہی ہے۔
حریت کانفرنس نے سری نگر کے لال چوک اور راج باغ سمیت تجارتی علاقوں میں نزول (سرکاری لیز پر دی گئی) زمین پر قائم جائیدادوں سے متعلق حالیہ بے دخلی کے نوٹسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات کشمیریوں کے اراضی کے حقوق کو کمزور کرنے اور آبادیاتی سطح پر وسیع تر تبدیلیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
اے پی ایچ سی نے عالمی برادری سے بھی بھارتی پالیسیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیے سری نگر اور مقبوضہ کشمیر کے دیگر علاقوں میں پابندیاں مزید سخت
اے پی ایچ سی کا مؤقف ہے کہ دنیا کو مودی، امیت شاہ اور اجیت دوول کی قیادت میں بھارتی بی جے پی حکومت کی جانب سے اپنائے گئے ہندوتوا نظریے کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔
حریت کانفرنس نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے اپیل کی کہ وہ بھارت پر زیرِ حراست کشمیریوں کی رہائی کے لیے دباؤ ڈالیں اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔














