کھانے کی خرابی کی بیماری تنہائی میں بڑھتی ہے، حل کیا ہے؟

پیر 28 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کھانے سے متعلق بیماریوں میں مبتلا افراد اکثر اپنی مشکل کسی سے بیان نہیں کرپاتے جس کے باعث مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے تاہم ماہرین اور متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اس بارے میں بات کرنا اور بروقت مدد حاصل کرنا بحالی کی جانب پہلا اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بہت زیادہ گرم چائے یا کافی غذائی نالی کو نقصان پہنچا کر کینسر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے

برطانیہ کے جزیرے جرسی سے تعلق رکھنے والی 30 سالہ اینا بینیٹ نے بھی اسی تجربے سے گزرتے ہوئے کہا ہے کہ کھانے سے متعلق بیماریاں تنہائی میں پروان چڑھتی ہیں اور اس مسئلے سے نکلنے کے لیے مدد مانگنا انتہائی بہادری کا کام ہے۔

اینا بینیٹ نے سنہ 2020 میں کھانے کی بے قابو خواہش اور ضرورت سے زیادہ کھانے کی بیماری سے نمٹنے کے لیے جرسی ایٹنگ ڈس آرڈرز سپورٹ نامی ادارے سے رابطہ کیا تھا۔ ادارے نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران بحالی کے مختلف مراحل میں ان کی مدد کی۔

ان کے بحالی کے سفر میں ایک ایسا مشکل وقت بھی آیا جب چند ہی ماہ کے اندر ان کے والدین دونوں انتقال کرگئے۔

اینا کے مطابق بحالی کا سفر ہمیشہ سیدھا اور مسلسل آگے بڑھنے والا نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا ہے کہ انسان ایک عرصے تک بہتری کی جانب بڑھ رہا ہو اور پھر اچانک زندگی میں کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے جو اسے پرانے مسائل سے نمٹنے کے طریقوں کی طرف دوبارہ دھکیل دے۔

وزن کم کرنے کی کوشش بیماری میں بدل گئی

اینا بینیٹ نے بتایا کہ ان کے کھانے سے متعلق مسائل اس وقت شروع ہوئے جب انہوں نے سنہ 2020 میں وزن کم کرنے کی کوشش شروع کی۔

مزید پڑھیے: رات کا کھانا کب کھانا چاہیے؟ صرف غذا نہیں وقت بھی اہم ہے

ابتدا میں انہیں یہ ایک صحت مند تبدیلی محسوس ہوئی لیکن رفتہ رفتہ کھانے کے ساتھ ان کا تعلق پیچیدہ ہوتا گیا اور بالآخر یہ صورتحال کھانے کی بے قابو بیماری میں تبدیل ہوگئی۔

ان کے مطابق اس سے قبل انہوں نے کھانے سے متعلق بیماریوں کے بارے میں زیادہ تر صرف انتہائی کم کھانے کی بیماری یا پھر کھانے کے بعد قے کرنے کی بیماری کے بارے میں سنا تھا۔

ایک دوست کے مشورے پر انہوں نے متعلقہ ادارے سے رابطہ کیا اور اس کی بانی کیرن ڈنگل سے ملاقات کی۔

اس کے بعد انہوں نے معاونتی اجلاسوں میں شرکت شروع کردی تاہم ابتدا میں وہاں جانا ان کے لیے خاصا مشکل تھا۔

اینا کے ذہن میں یہ خدشہ تھا کہ جب وہ پہلی بار ایسے لوگوں کے درمیان جائیں گی تو شاید انہیں تنقید یا ’ججمینٹ‘ کا سامنا کرنا پڑے۔

لیکن ان کے مطابق تجربہ اس کے بالکل برعکس نکلا۔

وہ کہتی ہیں کہ وہاں انہیں کسی اجنبی ماحول کے بجائے ایک خاندان جیسا احساس ملا۔

’لوگوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ مدد کہاں سے مل سکتی ہے‘

اینا بینیٹ کو اب اسی ادارے کی پہلی سفیر مقرر کیا گیا ہے اور وہ اس حیثیت سے کھانے سے متعلق بیماریوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے اور متاثرہ افراد کو مدد حاصل کرنے کی ترغیب دینا چاہتی ہیں۔

مزید پڑھیں: بحیرہ روم کی غذا بڑھاپے میں بھی ذہنی صحت بہتر رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، نئی تحقیق

ان کا کہنا ہے کہ زندگی میں پیش آنے والے بڑے واقعات بحالی کے عمل پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں لیکن ایسے حالات میں انسان کو یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔

اگست 2025 میں ان کی والدہ کینسر کے باعث انتقال کرگئیں جبکہ دسمبر 2025 میں ان کے والد بھی خون میں شدید انفیکشن کے باعث چل بسے۔

اینا کے مطابق بہت سے لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اگر وہ کھانے سے متعلق کسی بیماری کا سامنا کررہے ہوں تو مدد کہاں سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جب تک انسان خود معلومات تلاش نہ کرے ضروری نہیں کہ اسے دستیاب معاونت کے ذرائع کا علم ہو۔

وہ چاہتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو یہ پیغام ملے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔

’یہ بیماری صرف ایک خاص قسم کے لوگوں کو نہیں ہوتی‘

اینا کے مطابق کھانے سے متعلق بیماریوں کے بارے میں ایک بڑا غلط تصور یہ ہے کہ یہ صرف مخصوص عمر، جسمانی ساخت یا کسی خاص قسم کے لوگوں کو متاثر کرتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ حقیقت میں یہ بیماریاں مختلف افراد میں بالکل مختلف انداز میں ظاہر ہوسکتی ہیں۔

کسی شخص میں اس کی علامات واضح طور پر نظر آسکتی ہیں جبکہ کوئی دوسرا فرد بظاہر بالکل معمول کی زندگی گزار رہا ہو اور اندر ہی اندر اس مسئلے کا سامنا کررہا ہو۔

اسی لیے اینا چاہتی ہیں کہ کھانے سے متعلق بیماریوں کے بارے میں موجود دقیانوسی تصورات ختم ہوں تاکہ متاثرہ افراد خود کو دوسروں سے الگ تھلگ محسوس نہ کریں۔

’حالات مزید خراب ہونے کا انتظار نہ کریں‘

اینا بینیٹ کے مطابق انہوں نے بھی پہلی مرتبہ مدد کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے شدید خوف محسوس کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں

تاہم ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ معاونتی گروپ نے ہمیشہ اس وقت ان کا ساتھ دیا جب انہیں اس کی ضرورت پڑی۔

ان کا پیغام ان تمام افراد کے لیے ہے جو کھانے کے ساتھ اپنے تعلق میں مشکلات محسوس کررہے ہیں۔ ان کا مشورہ ہے کہ مسئلہ مزید سنگین ہونے کا انتظار نہ کریں۔

ان کے مطابق کسی قابل اعتماد شخص سے بات کرنا، معلومات حاصل کرنا یا مدد کے لیے پہلا قدم اٹھانا بظاہر بہت مشکل ہوسکتا ہے لیکن یہی قدم بحالی کی جانب اہم پیشرفت ثابت ہوسکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ مدد مانگنے کے لیے پہلا قدم اٹھانا انتہائی بہادری کا کام ہے۔

مزید پڑھیں: الٹرا پراسیسڈ غذاؤں سے بچنے کے آسان طریقے، صحت بخش متبادل کونسے؟

کھانے سے متعلق بیماریوں کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ شرمندگی، خوف اور تنہائی ان مسائل کو مزید پیچیدہ کرسکتے ہیں جبکہ بروقت مدد، ہمدردانہ رویہ اور مناسب علاج متاثرہ فرد کو بحالی کی راہ پر واپس آنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp