اسپیس ایکس کا اسٹارشپ پہلی بار مدار میں پہنچ گیا، 26 نئے اسٹارلنک سیٹلائٹس بھی روانہ

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسپیس ایکس کا نئی نسل کا خلائی جہاز ’اسٹارشپ‘ پیر کو پہلی مرتبہ زمین کے مدار میں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا، تاہم دورانِ پرواز اس کا ایک انجن اچانک بند ہونے کے باعث مشن کو مقررہ وقت سے کئی گھنٹے پہلے ختم کرنا پڑا۔

اس کے باوجود اسٹارشپ نے مدار حاصل کرکے پہلی مرتبہ نئے نسل کے 26 اسٹارلنک سیٹلائٹس خلا میں کامیابی سے تعینات کردیے۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس نے امریکی فوج کا خفیہ مشن خلا میں روانہ کردیا

یہ اسٹارشپ کی 14ویں آزمائشی پرواز تھی۔ مشن کو ابتدائی طور پر 10 گھنٹے جاری رہنا تھا، تاہم انجن میں خرابی کے بعد اسے تقریباً 3 گھنٹے تک محدود کردیا گیا۔

راکٹ کو ٹیکساس میں خلیج میکسیکو کے قریب واقع اسپیس ایکس کے اسٹار بیس کمپلیکس سے لانچ کیا گیا۔

40 منزلہ عمارت کے برابر اس بغیر انسان کے خلائی جہاز میں سپر ہیوی بوسٹر کے اوپر اسٹارشپ کا بالائی مرحلہ نصب تھا۔

سپر ہیوی بوسٹر نے اسٹارشپ کو خلا تک پہنچایا، جس کے بعد وہ واپس خلیج میکسیکو میں کنٹرولڈ انداز میں پانی پر اترا۔

مزید پڑھیں: اسپیس ایکس کا اسٹارشپ فلائٹ 13 سمندر میں پھنس گیا، خراب موسم نے ریکوری مشن مشکل بنا دیا

اسپیس ایکس کے مطابق بوسٹر کے اترنے کے دوران اس کے بعض انجنوں نے کام کرنا چھوڑ دیا۔

خلا میں پہنچنے کے بعد اسٹارشپ کے 3 مرکزی انجنوں میں سے ایک مقررہ وقت سے پہلے بند ہوگیا۔

اسپیس ایکس کے ترجمان ڈین ہوٹ نے ابتدا میں کہا کہ خلائی جہاز مدار تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرے گا۔

تاہم انجینئرز کی جانب سے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ تبدیل کیا گیا اور انجن فائر کرکے اسٹارشپ کو مدار میں پہنچانے کی کوشش کی گئی، جو کامیاب رہی۔

مدار میں پہنچنے کے بعد اسٹارشپ نے تقریباً 269 کلومیٹر کی بلندی پر 26 نئے ’اسٹارلنک وی 3‘ سیٹلائٹس ایک ایک کرکے تعینات کیے۔

ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر تصدیق کی کہ تمام 26 سیٹلائٹس کامیابی سے تعینات ہوگئے اور معمول کے مطابق کام کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: اینتھروپک کا ایک کھرب ڈالر تک کی تاریخ ساز حصص فروخت کا منصوبہ، اسپیس ایکس کا ریکارڈ توڑنے کی تیاری

مشن کے اختتام پر اسٹارشپ نے بحرالکاہل میں کنٹرولڈ واپسی کی، سمندر کی سطح سے ٹکرانے کے وقت راکٹ کے نچلے حصے میں آگ بھڑک اٹھی اور بعد ازاں وہ ایک جانب گر گیا۔

اسپیس ایکس نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ اس مشن کے بعد خلائی جہاز کو سمندر سے واپس لانے کا منصوبہ نہیں ہے۔

اسٹارشپ کی مدار تک رسائی اسپیس ایکس کے لیے اہم سنگِ میل ہے۔ 2023 سے ہونے والی اس کی تمام 13 سابقہ آزمائشی پروازیں ذیلی مداری سطح تک محدود رہی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp