مقبوضہ کشمیر: انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف کانگریس کا احتجاج، مودی سے بھی استعفے کا مطالبہ

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کانگریس نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کیے، جہاں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور گرفتاری کے ساتھ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے بھی استعفے کا مطالبہ کیا گیا۔

جموں کے شہیدی چوک میں کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ مظاہرین نے الیکشن کمیشن اور مودی حکومت کے خلاف نعرے لگائے، پلے کارڈز اٹھائے اور وزارت روڈ پر ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی جانب مارچ کیا، تاہم پولیس نے بھاری نفری کے ساتھ مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔

احتجاج کی قیادت کرنے والے سابق وزیر یوگیش ساہنی نے کہا کہ کانگریس کے 4 مطالبات ہیں، جن میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ، انہیں جیل بھیجنا، ان کے دور میں کیے گئے تمام فیصلے واپس لینا اور ان اقدامات کے ذمہ دار افراد سے استعفیٰ لینا شامل ہے۔ انہوں نے وزیراعظم نریندر مودی کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بڑھتا ہوا بھارتی جبر: آل پارٹیز حریت کانفرنس نے کشمیریوں سے متحد ہونے کی اپیل کردی

کانگریس کے ورکنگ صدر رمن بھلا کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنانی چاہیے اور انتخابات کی ساکھ پر اٹھنے والے سوالات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

مظاہرین نے چیف الیکشن کمشنر کی علامتی ہتھکڑیاں اور ان کی تصاویر والے پوسٹر بھی اٹھا رکھے تھے۔

جموں کے علاوہ پونچھ، ادھم پور، کٹھوعہ، کشتواڑ، ڈوڈہ، سانبہ، کھور اور دیگر علاقوں میں بھی احتجاج کیے گئے۔ کارکنوں نے ڈپٹی کمشنرز کے دفاتر کی جانب مارچ کیا۔

کٹھوعہ میں سابق رکن پارلیمنٹ چودھری لال سنگھ نے ٹھاکر ہری سنگھ چن اور پنکج ڈوگرہ کے ہمراہ مارچ کی قیادت کی، جبکہ کھور میں سابق نائب وزیر اعلیٰ تارا چند نے احتجاج کی قیادت کی۔

پونچھ اور ادھم پور میں شاہنواز چودھری، بلیر سنگھ اور سمیت مگوٹرا نے مظاہروں کی قیادت کی۔ اس موقع پر سینئر رہنما مولا رام، نیرج کنڈن، کانتا بھان، ٹی ایس ٹونی، اجے لکھوترا اور ستیش شرما بھی شریک ہوئے۔

سری نگر، بارہمولہ اور گاندربل میں بھی مظاہرے ہوئے، جہاں کانگریس رہنماؤں نے گیانیش کمار کو برطرف کرنے اور ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ، مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں پھر ہنگامہ

یہ احتجاج ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ بعض فیصلوں اور احکامات پر اعتراض کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں ووٹر رجسٹریشن کے فارم 6 میں تبدیلی اور انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا پر مرکزی سطح پر کنٹرول سے متعلق معاملات بھی شامل تھے۔ دونوں الیکشن کمشنرز نے بعض فیصلوں کے بارے میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ان سے لاعلم تھے۔

کانگریس نے انہی الزامات کو بنیاد بناتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی اور انتخابی عمل میں شفافیت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp