ٹرمپ کا خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ

جمعرات 15 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کو خفیہ معلومات فراہم کرنے والوں کو گولی مارنے کی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے افراد کے خلاف انتہائی سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

ایریزونا کے شہر بُل ہیڈ سٹی میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنے حامیوں پر زور دیا کہ وہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈالیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی رائے میں خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کو گولی مار دینی چاہیے، ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسے افراد کو گولی مار دی جاتی تھی جو کسی ملک پر حملے کے وقت سے متعلق معلومات لیک کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کا خاتون صحافی کو ’بیوقوف‘ قرار دینے پر نیا تنازع

ان کا یہ بیان جون 2025 میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘ کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

اس کارروائی کے بعد متعدد امریکی میڈیا اداروں نے امریکی ڈیفینس انٹیلیجنس ایجنسی کی ایک ابتدائی رپورٹ کے نتائج شائع کیے تھے، جو اس وقت تک عوام کے لیے جاری نہیں کی گئی تھی۔

رپورٹ میں اشارہ دیا گیا تھا کہ ایران امریکی حملوں سے متاثرہ مقامات سے اپنا کچھ افزودہ یورینیم منتقل کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

اس میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان ٹرمپ کے دعوؤں کے مقابلے میں کم تھا۔

صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز اور سی این این سمیت میڈیا اداروں پر الزام لگایا کہ خفیہ معلومات کی اشاعت سے امریکی فوجی اہلکاروں کی سلامتی خطرے میں پڑی۔

مزید پڑھیں: ’سی این این  کی خاتون رپورٹر کے سوال پر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ سیخ پا، وائٹ ہاؤس بھی آگ بگولا

ان کے مطابق، حملوں کے لیے روانگی اور آمد کے اوقات سے متعلق معلومات افشا ہونے کے باعث انہیں 2 روز بعد بمباری کا شیڈول تبدیل کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ خفیہ معلومات لیک کرنے والوں کو جیل بھیجنا چاہیے یا انہیں گولی مار دینی چاہیے، جبکہ ایسے افراد کو باقی زندگی جیل میں گزارنی چاہیے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کی شناخت کے لیے اقدامات بھی تیز کیے ہیں، انتظامیہ کے بعض ملازمین اور فوجی افسران سے پولی گراف ٹیسٹ لیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے صحافی کے سخت سوال پر ممدانی کو کیسے مشکل سے نکالا؟

جبکہ نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور وال اسٹریٹ جرنل کے صحافیوں کو بھی معلومات کے ذرائع معلوم کرنے کے لیے عدالتی سمن موصول ہوئے ہیں۔

گزشتہ سال امریکی محکمہ دفاع نے پینٹاگون تک رسائی کے خواہش مند صحافیوں سے غیر مجاز مواد شائع نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

تاہم، متعدد صحافیوں نے اس شرط سے اتفاق نہیں کیا اور ایک وفاقی عدالت نے نئی پابندیوں میں سے کئی کو کالعدم قرار دے دیا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا آسٹریلوی صحافی سے جھگڑا کس سوال پر ہوا؟

ٹرمپ اس سے قبل بھی خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف سخت سزاؤں کی حمایت کر چکے ہیں۔

سابق وائٹ ہاؤس عہدیدار ایلیسا فرح گرفن نے 2024 میں بتایا تھا کہ 2020 میں ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس کے بنکر میں پناہ لینے کی خبر سامنے آنے کے بعد انہوں نے معلومات لیک کرنے والوں کو سزائے موت دینے کی بات کی تھی۔

بدھ کے روز خطاب میں ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کے خلاف انتہائی سخت کارروائی ہونی چاہیے اور انہیں ’زمین پر بدترین لوگ‘ قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp