خیبر پختونخوا میں دہشتگردی سے کون سے علاقے سب سے زیادہ متاثر ہیں؟

بدھ 14 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سنہ 2013 سے صوبائی حکومت کا حصہ رہی ہے تاہم صوبے میں دہشتگردی کی مسلسل لہر، پولیس اہلکاروں کی بڑھتی ہوئی شہادتوں اور حساس اضلاع میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال نے صوبائی حکومت کی انسداد دہشتگردی پالیسی اور انتظامی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: 13 سالہ اقتدار، پھر گورنر راج کیوں؟ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکمرانی پر بڑے سوالات

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں جہاں سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکار مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں وہیں متاثرہ علاقوں کے شہری بھی خوف اور عدم تحفظ کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

خیبر پختونخوا کی جغرافیائی اہمیت اور سیکیورٹی چیلنجز

خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں جس کے باعث سرحد پار شدت پسندوں کی نقل و حرکت اور مسلح تنظیموں کی سرگرمیاں صوبے کی سیکیورٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔

دہشتگردی کے اسباب میں سرحدی صورت حال، شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں، وفاقی حکومت کی پالیسیاں اور علاقائی حالات بھی اہم عوامل سمجھے جاتے ہیں۔

تاہم صوبائی حکومت کی ذمہ داریوں میں پولیس کی استعداد کار بڑھانا، انسداد دہشتگردی کے اداروں کو مؤثر بنانا، خالی آسامیوں پر بھرتیاں کرنا، پولیس چوکیوں کو محفوظ بنانا اور حساس علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانا بھی شامل ہے۔

صوبے کے جنوبی اور ضم شدہ اضلاع بالخصوص دہشتگردی سے متاثر ہیں۔ کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، لکی مروت، ٹانک، اپر وزیرستان اور لوئر وزیرستان سمیت مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے خطرات کے باعث سیکیورٹی اداروں کو مسلسل چیلنجز کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیے: خیبرپختونخوا میں امن کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایک پیج پر ہیں، محسن نقوی

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا کے 26 اضلاع کو دہشتگردی کے تناظر میں ہارڈ ایریاز قرار دیا ہے جو صوبے میں سیکیورٹی صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

دہشتگردی کے باعث پولیس اہلکاروں کی بڑھتی شہادتیں

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا پولیس کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دستیاب پولیس کارکردگی کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2025 کے دوران دہشتگردی کے حملوں میں 159 پولیس اہلکار شہید ہوئے جبکہ پولیس پر مجموعی طور پر 536 حملے رپورٹ کیے گئے۔

اسی طرح 2026 کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران 122 پولیس اہلکاروں کی شہادت کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صوبے میں پولیس اہلکاروں کو شدید خطرات لاحق ہیں اور ان کی حفاظت، جدید آلات کی فراہمی اور پولیس چوکیوں کو محفوظ بنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔

خودکش حملے اور دہشتگردی کے بڑھتے خطرات

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان کے مطابق خیبر پختونخوا میں گزشتہ 2 برس کے دوران دہشتگردی کے تقریباً 6 ہزار 200 واقعات پیش آئے جن میں 1,200 افراد جان سے گئے جبکہ ان کے بقول افغان شہریوں نے 37 خودکش حملے کیے۔

مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانا کیوں ضروری ہوگیا تھا؟

ان کے مطابق سال رواں کے دوران اب تک صوبے میں 14 خودکش حملے ہوچکے ہیں جن میں سے زیادہ تر میں افغان شہری ملوث تھے۔

دوسری جانب سال 2025 میں ملک بھر میں 23 خودکش اور فدائین حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں سے 14 خیبر پختونخوا میں ہوئے۔ مختلف اداروں کے اعداد و شمار میں فرق کے باعث واقعات کی تعداد بیان کرتے وقت متعلقہ رپورٹ اور اس میں استعمال ہونے والی تعریف کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

پی ٹی آئی کے طویل دور حکومت میں انسداد دہشتگردی کی پالیسی کہاں کھڑی ہے؟

خیبر پختونخوا میں سنہ 2013 سے پی ٹی آئی مختلف ادوار میں حکومت کرتی رہی ہے تاہم دہشتگردی کے دوبارہ بڑھتے ہوئے خطرات نے یہ سوال اہم بنا دیا ہے کہ طویل حکومتی تجربے کے باوجود حساس اضلاع میں پولیس اور انسداد دہشتگردی کے نظام کو کس حد تک مضبوط بنایا جاسکا ہے۔

پولیس کی خالی اسامیوں، جدید آلات کی ضرورت، محفوظ چوکیوں، انٹیلی جنس نظام اور انسداد دہشتگردی کے اداروں کی استعداد کار جیسے معاملات پر صوبائی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

دہشتگردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی محض بیانات اور اجلاسوں تک محدود نہیں رہ سکتی بلکہ اس کے نتائج شہریوں کے تحفظ، پولیس کی بہتر کارکردگی اور دہشتگردی کے واقعات میں کمی کی صورت میں سامنے آنے چاہییں۔

خیبر پختونخوا میں دہشتگردی محض چند واقعات یا مخصوص اضلاع کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ صوبے کے امن، معیشت، تعلیم اور عوامی زندگی سے جڑا ایک سنگین بحران ہے۔ پولیس اہلکاروں کی شہادتیں، خودکش حملے اور حساس علاقوں میں مسلسل بدامنی اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ صوبائی حکومت کی انسداد دہشتگردی پالیسی، وسائل کے استعمال اور انتظامی اقدامات کا شفاف انداز میں جائزہ لیا جائے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ، کوہاٹ میں شہریوں کا جشن، ’یوم نجات‘ پر مٹھائیاں تقسیم

پی ٹی آئی کے طویل دور حکومت کے تناظر میں بنیادی سوال یہی ہے کہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے کیا نتائج برآمد ہوئے، متاثرہ اضلاع میں پولیس کو کتنے وسائل فراہم کیے گئے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے کون سی مؤثر حکمت عملی اختیار کی گئی؟ بالآخر کسی بھی حکومت کی کامیابی کا اصل پیمانہ سیاسی دعوے نہیں بلکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ، پولیس کی استعداد کار میں بہتری اور دہشتگردی کے واقعات میں حقیقی کمی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp