وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ قیدی کی رہائی کا فورم حکومت نہیں بلکہ عدالتیں ہیں، ملک آئین کے تابع چلتا ہے اور یہاں قوانین موجود ہیں۔
اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایک طرف رہائی کا مطالبہ اور دوسری طرف طاقت کے استعمال سے احتجاج کی باتیں کی جارہی ہیں، جلسے جلوس اور شہروں پر چڑھائی کرکے طاقت کے استعمال سے آئینی مقصد حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد کے لیے طاقت کا استعمال قابل قبول نہیں، تاہم آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی احتجاج کیا جاسکتا ہے۔ جس احتجاج کی بنیاد ہی قانون اور آئین کے مطابق نہ ہو، اس پر سوال اٹھتا ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ جن معاملات کا تعلق عدالتوں سے ہے، انہیں عدالتوں پر چھوڑ دینا چاہیے۔ اگر طبی یا دیگر کوئی کمی بیشی تھی تو عدالتوں سے رجوع کیا جائے، جلسے جلوس سے نہیں۔ مذاکرات سے انکار نہیں، لیکن مذاکرات سنجیدہ ہونے چاہئیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے صرف ایک طبی معائنے کی ہدایت کی تھی، اسلام آباد میں متعلقہ شخصیت کا طبی معائنہ سینئر ڈاکٹروں کی ٹیم نے کیا، جس کا مقصد صحت اور زندگی کو لاحق خطرے کا جائزہ لینا تھا۔ متعلقہ شخصیت کی ہمشیرہ نے بھی پریس کانفرنس میں صحت مند ہونے کی تصدیق کی۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماؤں اور پروفیشنل باڈیز کے اندرونی معاملات پر کسی کو فتویٰ دینے کا حق نہیں۔ پاکستان بار کونسل وکلا کی ڈگریوں اور الیکشن کے معاملات کا متعلقہ ریکارڈ رکھتی ہے، جبکہ ایل ایل بی سمیت تعلیمی اسناد کا ریکارڈ بھی پاکستان بار کونسل میں موجود ہے۔
مزید پڑھیں:وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کی عدالتوں سے انصاف تول کر کرنے کی اپیل
وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ جن افراد نے اپنی ڈگریوں سے متعلق غلطی تسلیم کی، انہوں نے معافی مانگی۔ پارلیمنٹ میں قانون سازی پر بھی بحث ہوتی ہے، جبکہ نیشنل فارنزک اکیڈمی کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ محفوظ پاکستان کے لیے محفوظ دارالخلافہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔














