ریڈ کارپٹ پر استقبال ایسا لگا جیسے یونیورسٹی روڈ اچانک مکمل ہوگئی؟

منگل 29 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کی یونیورسٹی روڈ شہر کی وہ اہم ترین شریان جہاں سے روزانہ لاکھوں طالب علم، مریض اور ملازمین گزرتے ہیں۔ یہاں پھر ایک ربن کٹا، شرجیل میمن نے بڑے شاندار انداز میں ایک اور فلائی اوور کا افتتاح تو کر دیا، لیکن کیا کبھی کسی نے اس فلائی اوور کے نیچے اتر کر اس سڑک کی حالت دیکھی ہے؟

مزید پڑھیں:کراچی میں ایک خاندان کے 5 افراد کی ہلاکت، پوسٹ مارٹم میں وجہ واضح نہ ہوسکی

اوپر چمکتا ہوا کنکریٹ کا پُل اور نیچے ٹوٹے ہوئے، گڑھوں سے بھرے راستے جو عوام کا سانس سکھا رہے ہیں۔ افتتاح کی تصاویر میں جو چمک دمک دکھائی گئی، اس کے بالکل نیچے دھول، مٹی اور کھنڈر بنا ہوا راستہ شہریوں کی بے بسی کا منہ چڑا رہا ہے۔

عوام کی مشکلات اور درد

ایک طرف ٹریفک کا بے رحم ہجوم، دوسری طرف ہر موڑ پر بکھری ہوئی مٹی جس کی وجہ سے سانس لینا محال ہو چکا ہے۔ روزانہ اس روڈ پر سفر کرنے والے موٹر سائیکل سواروں کی کمر ٹوٹ رہی ہے، گاڑیاں تباہ ہو رہی ہیں اور شہری ہر روز حادثات کا شکار ہو رہے ہیں۔ ریڈ لائن بی آر ٹی اور مختلف تعمیراتی منصوبوں کے نام پر کراچی کی اس اہم ترین شاہراہ کو مہینوں سے جس حال میں چھوڑا گیا ہے، اس کا درد صرف وہی سمجھ سکتا ہے جو روز اس راستے پر خوار ہوتا ہے۔

پالیسی پر تنقید

پروجیکٹس اور پُلوں کے افتتاح اپنی جگہ، لیکن کیا صرف اوپری ڈھانچے بنا دینے سے عوام کا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ سروس روڈز اور مرکزی سڑکیں تباہ حال ہیں، بارشوں کے بعد کا کیچڑ ہو یا خشک دنوں کی دھول، ہر موسم کراچی والوں کے لیے آفت بن جاتا ہے۔ پُلوں کے افتتاح سے میڈیا پر سرخیاں تو بن جاتی ہیں، لیکن نیچے کھڑے شہری کے لیے زندگی ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید عذاب بنتی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی: کلفٹن تین تلوار کے قریب سپر مارٹ میں 50 لاکھ روپے سے زائد کی چوری

افتتاحی ربن تو کٹ گیا، لیکن سوال  یہ ہے کہ یونیورسٹی روڈ کی اس تباہی اور عوام کی اس مسلسل اذیت کا ربن کب کٹے گا؟ کب انتظامیہ کی نظر اس چمکتے فلائی اوور سے نیچے گر کر اس دھول اور گڑھوں میں اٹکے عام انسان پر پڑے گی؟

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp