افغان وزارت دفاع کے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹریٹجک پبلیکیشنز اینڈ انفارمیشن کے ایک سرکاری خط نے مزاحمت کاروں کو سرحد پار سے آنے والے غیر ملکی عناصر قرار دینے کے کابل کے بیانیے میں تضاد بے نقاب کردیا۔
مزید پڑھیں:پاکستان مسئلہ افغانستان کے قابل قبول اور دوستانہ حل کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا ہے، عطا اللہ تارڑ
افغان وزارت دفاع کے خط میں صفِ اول پر موجود فورسز کی جانب سے تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے پر اعتراض کیا گیا ہے، جن میں غیر مسلح افراد عام لباس میں دکھائی دے رہے ہیں اور افغانستان کے مختلف شہروں کے پتے بتا رہے ہیں۔
خط کے مطابق ایسی تصاویر اور ویڈیوز کابل کی جانب سے پیش کیے جانے والے اس بیانیے سے مطابقت نہیں رکھتیں جس میں مزاحمت کاروں کو سرحد پار سے آنے والے عناصر اور داعش خراسان کے جنگجو قرار دیا جارہا تھا۔
افغان وزارت دفاع کے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹریٹجک پبلیکیشنز اینڈ انفارمیشن کے ایک سرکاری خط نے مزاحمت کاروں کو سرحد پار سے آنے والے غیر ملکی عناصر قرار دینے کے کابل کے بیانیے میں تضاد بے نقاب کردیا۔@AfghanTimes7 @AfghanEmbPak pic.twitter.com/ZhRL4x1eQg
— Media Talk (@mediatalk922) September 29, 2026
دستیاب خط میں محاذ پر موجود فورسز کو ایسی تصاویر اور ویڈیوز جاری کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو کابل کے سرکاری بیانیے سے متصادم ہوں۔ خط سے ظاہر ہوتا ہے کہ صفِ اول سے جاری ہونے والے بعض مناظر نے سرحد پار سے آنے والے جنگجوؤں کے سرکاری دعوے پر سوالات پیدا کیے۔
مزید پڑھیں:افغان سرزمین سے دہشتگردی، پاکستان کی سفارتکاری سے جوابی کارروائی تک کا سفر
خط کے مطابق کابل کی اطلاعاتی مشینری طالبان پوزیشنز پر حملہ کرنے والے عناصر کو بیرونی قرار دینے کے بیانیے کو تقویت دینے کے لیے مواد جاری کررہی تھی، تاہم محاذ سے سامنے آنے والی بعض تصاویر اور ویڈیوز میں دکھائی دینے والے افراد کی حالت اور ان کے بتائے گئے مقامات نے اس بیانیے سے تضاد پیدا کیا۔














