پاکستان ریجنل ریفرنس لیبارٹری برائے پولیو کے خاتمے نے منگل کو ملک میں رواں سال پولیو کے پانچویں کیس کی تصدیق کردی، جس کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ بچی کی عمر 17 ماہ ہے اور وہ ضلع بنوں کی تحصیل ڈومیل کی یونین کونسل خندر خان خیل سے تعلق رکھتی ہے۔
رواں سال ملک میں رپورٹ ہونے والے پولیو کے 5 کیسز میں سے 4 بنوں ڈویژن سے سامنے آئے ہیں، جبکہ 3 کیسز صرف ضلع بنوں میں رپورٹ ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز، 73 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف
اگرچہ 2025 کے بعد ملک بھر میں پولیو وائرس کی مجموعی منتقلی میں کمی آئی ہے، تاہم خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں وائرس کی موجودگی اور گردش اب بھی ایک مستقل تشویش ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ویکسین کے مؤثر استعمال کے باعث پاکستان میں پولیو کے کیسز میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے۔
1990 کی دہائی میں ملک میں سالانہ اندازاً 20 ہزار پولیو کیسز رپورٹ ہوتے تھے، جو کم ہو کر 2025 میں 31 رہ گئے، جبکہ رواں سال اب تک صرف 5 کیسز سامنے آئے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے، وزیراعظم شہباز شریف
حکام کے مطابق بنوں سے نئے کیس کی تصدیق اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک بھر میں انسدادِ پولیو مہمات اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، کیونکہ جب تک ہر بچے کو پولیو سے محفوظ نہیں بنایا جاتا، کسی بھی بچے کے مکمل محفوظ ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
سال 2026 کے دوران پاکستان میں اب تک انسدادِ پولیو کی 4 بڑی قومی مہمات منعقد کی جاچکی ہیں، جن کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
گزشتہ ہفتے بھی ایک خصوصی مہم کے دوران 2 کروڑ 80 لاکھ بچوں کو ویکسین دی گئی، تاہم ملک کے بعض علاقوں میں وائرس کی مسلسل موجودگی بچوں کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم سے پولیو اوورسائیٹ بورڈ کے وفد کی ملاقات، پولیو کے خاتمے کے عزم کا اعادہ
پولیو ایک متعدی اور لاعلاج بیماری ہے جو بچوں میں عمر بھر کی معذوری یا موت کا سبب بن سکتی ہے، تاہم محفوظ اور مؤثر ویکسین کے ذریعے اس سے مکمل بچاؤ ممکن ہے۔
صحت کے ماہرین اور حکام نے والدین، مذہبی رہنماؤں اور میڈیا پر زور دیا ہے کہ وہ پولیو ویکسین سے متعلق افواہوں اور غلط فہمیوں کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں اور بچوں کی مکمل ویکسی نیشن یقینی بنانے میں تعاون کریں۔














