سابق پاکستانی ٹیسٹ اسپنر ثقلین مشتاق نے ملک میں عالمی معیار کے اسپنرز تیار کرنے کے لیے خصوصی اور مستقل نظام تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، اصل ضرورت واضح سوچ، طویل المدتی منصوبہ بندی اور ماہر کوچنگ کی ہے۔
ایک انٹرویو کے دوران ثقلین مشتاق نے کہا کہ اسپن بولنگ ایک خصوصی شعبہ ہے اور اس کی ذمہ داری ایسے لوگوں کو دی جانی چاہیے جو اس کی ضروریات کو سمجھتے ہوں۔ ان ماہرین کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے مکمل اعتماد اور اختیار بھی دیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: شاداب خان کے انتخاب پر توصیف احمد اور ثقلین مشتاق آمنے سامنے
سابق اسپنر کے مطابق صرف چند باصلاحیت کھلاڑی پیدا کرنے سے اسپن بولنگ میں بہتری نہیں آئے گی بلکہ مسلسل کوچنگ، منصوبہ بندی اور کھلاڑیوں کی طویل المدتی تربیت ضروری ہے۔
ثقلین مشتاق نے پاکستانی کرکٹ کو درپیش مسائل میں پیشہ ورانہ رویے کی کمی، ذمہ داری قبول کرنے سے گریز، باہمی اعتماد کا فقدان اور ماہرین کی صلاحیتوں سے مناسب فائدہ نہ اٹھانے کو بھی شامل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ کے ہر شعبے کی سربراہی متعلقہ مہارت اور تجربہ رکھنے والے افراد کو سونپی جائے اور انہیں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا اختیار دیا جائے۔
انہوں نے کرکٹ سے وابستہ تمام افراد پر زور دیا کہ ذاتی مفادات، دعووں اور الزام تراشی کے بجائے ملک کو ترجیح دی جائے۔ ان کے مطابق پاکستان باصلاحیت کھلاڑی پیدا کرتا رہے گا، تاہم اصل چیلنج اس ٹیلنٹ کو بہتر نظام، جدید کوچنگ، سہولیات اور رہنمائی کے ذریعے نکھارنا ہے۔
سابق پاکستانی اسپنر نے شاداب خان کے انتخاب سے متعلق سابق اسپنر توصیف احمد کے الزامات کو بھی مسترد کردیا۔ ثقلین نے کہا کہ توصیف احمد سے ان کی کبھی تفصیلی ٹیلیفون پر گفتگو نہیں ہوئی اور ان کے درمیان ہونے والی کالز مس ہوگئی تھیں۔ بعد ازاں انہوں نے تقریباً ڈھائی سال قبل ایک صوتی پیغام بھیجا تھا اور انہیں اسے عام کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹی کی شادی شاداب خان سے کیسے طے پائی؟ ثقلین مشتاق نے دلچسپ کہانی سنادی
ثقلین نے کہا کہ وہ اپنے سینیئرز کا احترام کرتے ہیں تاہم جب ان کی دیانت داری یا ساکھ پر سوال اٹھایا جائے تو وہ اپنا مؤقف واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاداب خان سے اب ان کی ملاقاتیں بھی کم ہوتی ہیں اور وہ کرکٹ یا انتخاب سے متعلق کسی خصوصی انداز میں گفتگو نہیں کرتے۔
سابق کپتان محمد حفیظ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ثقلین نے کہا کہ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ٹی وی پروگرام کے دوران محمد حفیظ نے ان سے شاداب خان، محمد نواز اور صائم ایوب کے کردار کے بارے میں سوال کیا تھا اور انہوں نے آل راؤنڈرز کی موجودہ فارم اور ٹیم کی ضروریات کے تناظر میں بات کی تھی۔
ثقلین کے مطابق 15 رکنی اسکواڈ میں سے حتمی 11 کھلاڑیوں کا انتخاب کرتے وقت فارم، اعتماد، حریف ٹیم، حالات اور ٹیم کے امتزاج کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
اپنے کوچنگ دور کو یاد کرتے ہوئے ثقلین نے کہا کہ ورلڈ کپ کے فائنل تک پہنچنا ان کے ایک خواب کی تکمیل تھی۔ ان کے مطابق بعد میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ایک منصوبہ ختم ہونے کے بعد انہیں استعفیٰ دینے کو کہا۔انہوں نے اس کے بعد صرف اسپن شعبے کے ساتھ کام کرنے، اسپن کوچز اور بولرز تیار کرنے کی پیشکش بھی کی لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم ورلڈ کپ کا فائنل کھیلیں گے، ثقلین مشتاق قومی ٹیم کے دفاع میں آ گئے
ثقلین نے کہا کہ انہیں بیرون ملک کام کے مواقع ملے لیکن پاکستان کرکٹ میں کردار ادا کرنے کی خواہش کے باعث وہ بار بار وطن واپس آتے رہے۔
انہوں نے غیرملکی کوچز کے ساتھ کام کرنے والے مقامی معاون کوچز کے لیے بہتر تربیت اور زبان سے متعلق معاونت کا بھی مطالبہ کیا۔ ثقلین کے مطابق کھلاڑیوں کی ترقی کے دوران انہوں نے سیکڑوں کوچز کے انٹرویوز کیے اور اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ بعض تجربہ کار پاکستانی کوچز کو انگریزی میں تکنیکی اصطلاحات سمجھنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، جس سے کوچنگ کے پیغام کی ترسیل متاثر ہوسکتی ہے۔
سابق اسپنر نے سابق کھلاڑیوں اور کھیلوں کے صحافیوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم ذمہ داری سے استعمال کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل منفی گفتگو نوجوانوں کو پاکستانی کرکٹ سے دور کرسکتی ہے، اس کے بجائے ذرائع ابلاغ مثبت، تعلیمی اور حوصلہ افزا پیغامات دے کر نئی نسل کو متاثر کرسکتے ہیں۔














