صدر مملکت آصف علی زرداری نے چین کے 77 ویں قومی دن کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کو خط لکھ کر پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور سی پیک کے دوسرے مرحلے میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور گرین انرجی کے فروغ کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
صدارتی سیکریٹریٹ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر مملکت نے اپنے مکتوب میں کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) دونوں ممالک کی روایتی دوستی اور ہمہ گیر اسٹریٹجک تعاون کی مضبوط ترین علامت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مشترکہ اعلامیہ: پاک چین تعلقات نئی اسٹریٹجک بلندی پر، مستقبل کی نئی برادری کے قیام پر اتفاق
انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان اور چین کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس، قابلِ تجدید توانائی اور گرین مائننگ کے شعبوں میں مشترکہ ترقی و منافع کے نئے در وا کر رہا ہے۔
چین کا معاشی انقلاب اور عالمی کردار
صدر زرداری نے گزشتہ 77 برسوں میں چین کی شاندار اور تاریخی پیشرفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ کروڑوں افراد کو غربت سے نکالنا چین کا لاثانی کارنامہ ہے۔
انہوں نے چین کی باہم شمولیت پر مبنی معاشی حکمتِ عملی، ’نئے معیار کی پیداواری صلاحیتوں‘ اور بین الاقوامی امور میں چین کے مسلسل بڑھتے ہوئے مثبت و فعال کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
سفارتی تعلقات کے 75 سال اور ’آئرن کلیڈ‘ دوستی
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ رواں سال دونوں ممالک باہمی سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کی ’آئرن کلیڈ‘ دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پورا اتری ہے، جس کا بنیادی محور باہمی اسٹریٹجک اعتماد اور ایک دوسرے کے کور ایشوز پر غیر متزلزل حمایت ہے۔
صدر زرداری نے واضح کیا کہ پاکستان، چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو اعلیٰ ترین ترجیح دیتا ہے اور صدر شی جن پنگ کے ساتھ مل کر ’مشترکہ مستقبل کے لیے چین پاکستان کمیونٹی‘ کی تعمیر کو تیز تر بنانے کا خواہاں ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ شراکت داری علاقائی امن، استحکام اور منصفانہ بین الاقوامی نظام کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرتی رہے گی۔
واضح رہے کہ پاکستان اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کا باضابطہ آغاز 1951 میں ہوا تھا۔ گزشتہ ساڑھے 7 دہائیوں پر محیط اس تاریخی دوستی نے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود پائیداری کی مثال قائم کی ہے۔
سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے پر مبنی تھا، جبکہ اب 2026 میں اس کے دوسرے مرحلے کا رخ جدید ٹیکنالوجی، زراعت، صنعتی ترقی اور سبز توانائی کے فروغ کی طرف ہے۔














