قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی کو تیسرے خط میں 2 اکتوبر کو تحقیقات میں پیش ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے خلاف الزامات، متعلقہ قانونی دفعات اور جاری تحقیقات کے دائرہ کار سے متعلق وضاحت طلب کرلی۔
محمد رضوان نے این سی سی آئی اے کو لکھے گئے خط میں کہا کہ انہیں تحقیقاتی ادارے کا نوٹس موصول ہوگیا ہے اور وہ 2 اکتوبر (بروز جمعہ) کو تحقیقات میں شامل ہونے کے لیے پیش ہوں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں اب تک اپنے خلاف عائد کیے گئے الزام کی درست نوعیت سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: این سی سی آئی اے کا محمد رضوان کو دوسرا نوٹس، 2 اکتوبر کو طلب
قومی کرکٹر کے مطابق پہلے نوٹس میں آن لائن بیٹنگ اور جوا سے متعلق الزامات عائد کیے گئے تھے، جبکہ عدالت میں جاری کارروائی کے دوران الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کے تحت الیکٹرانک فراڈ کی دفعہ کا حوالہ دیا گیا۔
رضوان نے نشاندہی کی کہ تازہ نوٹس میں آن لائن بیٹنگ یا جوئے کا ذکر نہیں کیا گیا، اس لیے این سی سی آئی اے سے وضاحت مانگی گئی ہے کہ کیا تحقیقات اب بھی آن لائن بیٹنگ یا جوئے سے متعلق ہیں یا ان کا دائرہ کار تبدیل کردیا گیا ہے۔
محمد رضوان نے تحقیقاتی ادارے سے یہ بھی پوچھا کہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے قانون 2016 کی کون سی مخصوص دفعات ان کے خلاف جاری تحقیقات پر لاگو ہوتی ہیں۔ انہوں نے درخواست کی کہ اگر پہلے نوٹس کے بعد تحقیقات کا دائرہ کار تبدیل کیا گیا ہے تو اس کی تفصیلات بھی تحریری طور پر فراہم کی جائیں۔
خط میں محمد رضوان نے کہا کہ بیٹنگ اور جوئے سے متعلق الزامات ایسے دعوؤں سے منسلک ہوگئے ہیں جو ان کی ساکھ اور کرکٹ کیریئر کو متاثر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ آیا پاکستان کرکٹ بورڈ، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے انسداد بدعنوانی یونٹ یا کسی دوسرے متعلقہ کرکٹ ادارے کو تحقیقات سے آگاہ کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان کا این سی سی آئی اے کو ایک اور خط، موبائل فون واپس کرنے اور انکوائری کی تفصیلات تحریری طور پر دینے کا مطالبہ
قومی کرکٹر نے این سی سی آئی اے سے یہ بھی پوچھا کہ کیا تحقیقاتی ادارے نے پاکستان کرکٹ بورڈ یا انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے کوئی معلومات حاصل کی ہیں یا ان سے رابطہ کیا ہے۔
محمد رضوان نے اپنے موبائل فون کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا موبائل فون این سی سی آئی اے کے پاس موجود ہے اور انگلینڈ میں پہلی مرتبہ پیشی کے دوران انہوں نے ادارے کو فون کا پاس ورڈ بھی فراہم کیا تھا۔ ان کے مطابق بعد ازاں ان کی موجودگی میں موبائل فون دوبارہ کھولا گیا اور اس کا معائنہ کیا گیا۔
رضوان نے کہا کہ انہیں موبائل فون قبضے میں لیے جانے کی کوئی رسید، وارنٹ، تحویل کا ریکارڈ یا ایسا تحریری دستاویز فراہم نہیں کیا گیا جس میں فون کو مسلسل اپنے پاس رکھنے کی وجہ واضح کی گئی ہو۔
انہوں نے این سی سی آئی اے سے یہ بھی وضاحت طلب کی کہ آیا فرانزک جانچ کے لیے ان کی مزید ذاتی معاونت درکار ہے۔ محمد رضوان نے درخواست کی کہ موبائل فون کی فرانزک جانچ بلا تاخیر مکمل کی جائے اور فون انہیں فوری واپس کیا جائے۔
تاہم قومی کرکٹر نے تحقیقاتی ادارے کو یقین دہانی کرائی کہ وہ کسی بھی قانونی تحقیقات میں مکمل تعاون اور معاونت کے لیے تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عدم تعاون کے دعوے پر محمد رضوان کا این سی سی آئی اے سے وضاحت لینے کا فیصلہ
یہ پیشرفت این سی سی آئی اے کی جانب سے محمد رضوان کو 2 اکتوبر کو دوبارہ طلب کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے، تازہ نوٹس میں انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران ڈریسنگ روم سے معلومات افشا ہونے کے مبینہ معاملے کی تحقیقات کا حوالہ دیا گیا ہے۔
نوٹس کے مطابق 34 سالہ محمد رضوان کو جمعے کو سہ پہر 3 بجے ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پیش نہ ہونے کی صورت میں اسے اس امر کی علامت سمجھا جائے گا کہ ان کے پاس اپنے دفاع میں پیش کرنے یا بیان دینے کے لیے کچھ نہیں۔














