غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر تنقید مہنگی پڑ گئی، اقوام متحدہ کا اہلکار برطرف

جمعہ 2 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے ایک سینیئر عہدیدار نے الزام عائد کیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرنے کے باعث انہیں 26 سال بعد ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔

فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن یعنی ایف اے او کے ڈائریکٹر بین ڈیوس نے بتایا کہ انہیں جولائی میں آگاہ کیا گیا تھا کہ ان کے معاہدے کی تجدید نہیں کی جائے گی۔

بین ڈیوس کے مطابق ادارے نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے غیر جانب داری کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ناکام رہی، پاکستان

بین ڈیوس نے کہا کہ ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ غزہ میں بھوک اور قحط کی صورتحال کے خلاف ادارے کے بعض ملازمین کی جانب سے ہفتہ وار خاموش احتجاج منظم کر رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ غزہ میں خوراک کی دستیابی اور انسانی قانون سے متعلق ایک رپورٹ پر بھی انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کی تیاری میں وہ شامل تھے اور جو مئی میں شائع ہوئی تھی۔

’ہمیں اسے ہٹانے کے لیے کہا گیا، ہمیں انسانی قانون کا کوئی حوالہ دینے کی اجازت نہیں تھی۔‘

دوسری جانب ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کُو ڈونگ یو نے منگل کو ایک ویڈیو ریکارڈ شدہ اجلاس کے آغاز میں ادارے کے ملازمین کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں انسانی حقوق کا کھیل کھیلنے کی اجازت نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق یقیناً اہم ہیں، تاہم اس معاملے سے نمٹنے کے لیے جینیوا میں انسانی حقوق کا متعلقہ ادارہ موجود ہے۔

ایف اے او سربراہ نے مزید کہا کہ بعض سینیئر ارکان ادارے میں سیاسی کھیل کھیلتے ہیں اور انہیں ملازمت سے برطرف کیا جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: اقوام متحدہ غزہ میں جنگی جرائم کے لیے اسرائیل کا احتساب کرے، پاکستان

انہوں نے ملازمین پر زور دیا کہ وہ ایف اے او کے آئین اور اسٹاف ریگولیشنز کی پابندی کریں۔

کُو ڈونگ یو نے کہا کہ اگر کوئی شخص قوانین کے خلاف جائے گا تو وہ مزید لوگوں کو برطرف کریں گے۔

جب بین ڈیوس سے پوچھا گیا کہ آیا ان کے خیال میں ڈائریکٹر جنرل کے یہ ریمارکس انہی کے بارے میں تھے تو ان کا جواب مثبت تھا۔

مزید پڑھیں: نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس

ڈیوس نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل ماضی میں بھی انہیں عوامی طور پر زیادہ سیاسی ہونے پر سرزنش کر چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ ڈائریکٹر جنرل کے اس بیان پر بھی تشویش میں مبتلا ہیں کہ مزید ملازمین کو برطرف کیا جا سکتا ہے۔

ان کے مطابق غزہ میں بھوک اور قحط کی صورتحال کے خلاف ایف اے او میں ہونے والے خاموش احتجاج میں ایک وقت میں سینکڑوں افراد شریک ہوئے، تاہم اب ہر ہفتے تقریباً 30 سے 40 ملازمین ان احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ منصوبے کے تحت غزہ بورڈ آف پیس کے ارکان کا باضابطہ اعلان

غزہ کی وزارت صحت، جو حماس کے زیر انتظام ہے، کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 74 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ غزہ کی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ اموات کے اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد قرار دیتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp