محمد رضوان موبائل فون کے فرانزک تجزیے کے لیے این سی سی آئی اے میں پیش

جمعہ 2 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان جمعہ کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں موبائل فون کے فرانزک معائنے اور تجزیے کے لیے پیش ہوگئے، جو گزشتہ ماہ سے ادارے کی تحویل میں ہے۔

این سی سی آئی اے نے نوٹس کے ذریعے محمد رضوان سے تعاون کی درخواست کرتے ہوئے ان کے قبضے سے لیے گئے موبائل فون کا فرانزک معائنہ اور تجزیہ کرنے کا کہا تھا۔ انہیں ضابطہ فوجداری کی دفعہ 160 کے تحت نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان کا نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن اتھارٹی کو تیسرا خط ، کیا لکھا؟

این سی سی آئی اے کی 4 رکنی ٹیم محمد رضوان سے پوچھ گچھ کرے گی، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر اور 3 انسپکٹرز شامل ہیں۔

ادارے میں پیشی کے موقع پر نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران محمد رضوان سے پوچھا گیا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں اور انکوائری کس معاملے پر ہے تو انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

الزامات سے متعلق سوال پر محمد رضوان نے کہا، ‘ان سے پوچھیں۔’

اس سے قبل محمد رضوان نے ایک خط کے ذریعے انکوائری کی تحریری تفصیلات اور اپنا موبائل فون واپس کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

محمد رضوان نے پہلے بتایا تھا کہ 31 اگست کو انگلینڈ میں ان کا موبائل فون لے لیا گیا تھا اور انہوں نے اسی وقت اس کا پاس ورڈ بھی فراہم کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ موبائل فون کا معائنہ ان کی موجودگی میں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: این سی سی آئی اے کا محمد رضوان کو دوسرا نوٹس، 2 اکتوبر کو طلب

انہوں نے مزید بتایا تھا کہ 10 ستمبر کو این سی سی آئی اے میں پیشی کے موقع پر حکام کو ان کا کھلا ہوا موبائل فون دستیاب تھا، جس کے ذریعے پیغامات اور دیگر مواد کا جائزہ لیا جاسکتا تھا۔

این سی سی آئی اے نے اس سے قبل بھی محمد رضوان سے تعاون کے لیے متعدد مرتبہ رابطہ کیا تھا، تاہم کرکٹر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ کارروائی کے بارے میں وضاحت چاہتے تھے اور اپنے وکیل سے مشاورت کررہے تھے۔

محمد رضوان کے خلاف این سی سی آئی اے کی تحقیقات کو تقریباً ایک ماہ ہوچکا ہے۔ ادارے نے انگلینڈ کے دورے کے دوران پاکستان کے ٹیسٹ دورے کے موقع پر ان کا موبائل فون تحویل میں لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان کی این سی سی آئی اے انکوائری کے خلاف درخواست مسترد، میڈیا سے گفتگو کی اجازت بھی نہ مل سکی

رپورٹس کے مطابق انکوائری کا تعلق آن لائن بیٹنگ، جوئے اور ڈریسنگ روم سے ٹیم کی معلومات لیک ہونے کے الزامات سے ہے۔ پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف 3 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں 0-3 سے شکست ہوئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp