چاند بظاہر ایک خاموش اور بے جان دنیا ہے، لیکن اس کی مٹی میں آج بھی اس کے قدیم ماضی کے راز محفوظ ہیں۔ چین کے چانگ ای-6 مشن کے ذریعے زمین پر لائے گئے چاند کے نمونوں میں سائنس دانوں نے دھاتی لوہے کی ایک ایسی شکل دریافت کی ہے جو قدرتی چاند کی مٹی میں اس سے پہلے رپورٹ نہیں ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں:چاند 27 اگست کی رات چاند سرخ کیوں ہوجائے گا؟
محققین کے مطابق انتہائی باریک ذرات کی صورت میں موجود یہ ’گاما آئرن‘ چاند کی سطح پر اربوں سال پہلے ہونے والے شدید ٹکراؤ کے دوران بننے والے شیشے جیسے ذرات میں محفوظ ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ننھے ذرات چاند کے قدیم مقناطیسی میدان کی یادیں اپنے اندر محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ سائنس دان انہیں ایک طرح کے ’مقناطیسی فوسل‘ قرار دے رہے ہیں، جن کے ذریعے چاند کے اس دور کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے جب وہاں آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ طاقتور مقناطیسی میدان موجود تھا۔
Stunning footage of the Chang’e 6 Lunar Lander Operating on the Moon.
Just released footage of the spacecraft collecting soil and rock samples from the Moon’s far side.Ascent stage has already left the Moon with the collected samples, scheduled to return to Earth on June 25.
— Toby Li (@tobyliiiiiiiiii) June 4, 2024
چاند آج عالمی مقناطیسی میدان نہیں رکھتا، تاہم اس کی چٹانوں اور مٹی میں قدیم مقناطیسی سرگرمی کے آثار اب بھی موجود ہیں۔ نئی دریافت سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد دے سکتی ہے کہ چاند کا مقناطیسی ماحول کب، کیسے اور کیوں کمزور ہوا۔
مزید پڑھیں:ملکہ ترنم کی 100ویں سالگرہ: اے وطن کے سجیلے جوانو سے چاندنی راتیں تک، نورجہاں کے نغمے آج بھی جوان
چانگ ای-6 مشن نے 2024 میں چاند کے دور دراز حصے سے پہلی بار نمونے زمین پر پہنچائے تھے۔ انہی نمونوں کے مسلسل مطالعے سے چاند کی ساخت اور اس کے ارتقائی سفر کے بارے میں نئی معلومات سامنے آرہی ہیں۔














