صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے تعلیم کے فروغ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور معیاری تعلیمی مواقع کی فراہمی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ اساتذہ ہر تعلیمی نظام کا بنیادی ستون ہیں، جو علم کی منتقلی کے ساتھ تجسس کو پروان چڑھاتے، کردار سازی کرتے اور نوجوانوں کو ذمہ دار و کارآمد شہری بننے کے لیے ضروری مہارتیں اور اقدار فراہم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:پنجاب: کتابی بوجھ 25 فیصد کم، اے آئی نصاب اور اساتذہ کی مینٹل ہیلتھ ٹریننگ کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ رواں سال عالمی یومِ اساتذہ کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ یہ اساتذہ کی حیثیت سے متعلق 1966 کی آئی ایل او اور یونیسکو سفارشات کی 60ویں سالگرہ ہے۔ اس سال کا موضوع اساتذہ کے پیشے کے تحفظ، اس کے مقام کو بلند کرنے اور مستقبل کی تشکیل میں ان کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔
صدر نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے اور بچوں و نوجوانوں کے لیے مواقع بڑھانے کے لیے تدریسی شعبے کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ اساتذہ کی تعلیم، پیشہ ورانہ ترقی اور سازگار تعلیمی ماحول میں سرمایہ کاری جاری رکھنا ہوگی تاکہ وہ طلبہ کی بدلتی ضروریات پوری کرسکیں۔
おはようございます!
10月5日は「世界教師デー(World Teachers’ Day)」です。
世界教師デーは毎年10月5日。1966年10月5日に「教師の地位に関するILO/UNESCO勧告」が採択されたことを記念し、1994年から世界的に実施されています。… pic.twitter.com/l7RWd6ezss
— やす@AI時短✖︎&思考整理 (@ysokubu_999) October 4, 2026
آصف علی زرداری نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی نے تعلیم کے طریقہ کار کو بھی تبدیل کردیا ہے۔ ٹیکنالوجی تدریس اور سیکھنے کے عمل میں معاون ہوسکتی ہے، تاہم اساتذہ کی ہمدردی، رہنمائی، اخلاقی تربیت اور طلبہ کو سمجھنے اور متاثر کرنے کی صلاحیت کا متبادل نہیں ہوسکتی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ اساتذہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت، ذہنی نشوونما، فکری ارتقا اور کردار سازی میں ناقابل فراموش کردار ادا کرتے ہیں۔ اساتذہ کی لگن، علم اور عزم قوموں کے مستقبل کی تشکیل کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کا دارومدار نظام تعلیم کے معیار اور بالخصوص قابل اساتذہ کی محنت پر ہے۔ جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ نظام تعلیم میں مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، تکنیکی ترقی اور روزگار سے متعلق تعلیم کو شامل کرنا ضروری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نظام تعلیم کو معیاری اور عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔ دانش اسکولز کے دائرہ کار میں توسیع کے ذریعے باصلاحیت اور مستحق بچوں، بالخصوص معاشی طور پر پسماندہ اور تعلیمی سہولیات سے محروم علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کے مواقع فراہم کیے جارہے ہیں۔
مزید پڑھیں:9ویں جماعت کے خراب نتائج پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اساتذہ پر برہم، کارروائی کا فیصلہ
شہباز شریف نے کہا کہ اساتذہ کی معیاری پیشہ ورانہ تربیت، جدید تعلیمی وسائل اور سازگار ماحول کی فراہمی کے لیے حکومت پُرعزم ہے۔ اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایکسیلنس اِن ٹیچر ایجوکیشن کا قیام اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے، جو اساتذہ کی جدید تربیت، تحقیق اور تدریسی استعداد میں اضافے کے لیے کام کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت قومی نصاب کے ذریعے نصابی اصلاحات پر بھی کام کر رہی ہے جبکہ فنی تربیت اور ہنرمند افرادی قوت کی تیاری پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ نیوٹیک اور وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام جیسے اقدامات نوجوانوں کو صنعتی اور عملی ضروریات کے مطابق فنی مہارتیں فراہم کرنے میں معاون ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے دور دراز، پسماندہ اور دشوار گزار علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کی خصوصی طور پر تعریف کی اور کہا کہ ان کی خدمات قومی کاوش ہیں اور وہ اجتماعی قدر دانی اور بھرپور تعاون کے مستحق ہیں۔













