امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کے حالیہ پیٹرول ریلیف پیکج کو ناکافی اور عوامی دباؤ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنے احتجاجی مہم کے اگلے مرحلے کا اعلان 7 اکتوبر کے بعد کرے گی۔
کراچی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ 21 ستمبر کو شروع ہونے والا مارچ وزیراعظم کی اپیل اور جماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کی یقین دہانی پر ملتوی کیا گیا تھا۔ تاہم، وزیراعظم اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد رواں ہفتے وطن واپس پہنچ چکے ہیں لیکن اب تک دونوں فریقین کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں پا سکی ہے۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعظم شہباز شریف کا حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ، لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کے ریلیف پیکج پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تقریباً 400 ملین (4 کروڑ) سے زائد موٹر سائیکل سوار موجود ہیں اور موجودہ پیکج سے تمام متاثرہ شہریوں کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس مسئلے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا واحد اور مستقل حل صرف اور صرف پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ ہے۔
انہوں نے ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد اضافی ٹیکسوں اور عوام پر بڑھتے ہوئے بوجھ کے خلاف آخر تمام سیاسی جماعتیں خاموش کیوں ہیں؟
یہ بھی پڑھیے وزیراعظم سے ملاقات میں ریلیف نہ ملا تو لانگ مارچ دوبارہ شروع کریں گے، حافظ نعیم
حافظ نعیم الرحمان نے اشرافیہ اور غریب عوام کے لیے الگ الگ نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں دوہرا معیار مزید نہیں چل سکتا۔ انہوں نے حکومت پر واضح کیا کہ وہ عارضی اقدامات کے بجائے پیٹرولیم لیوی کو ختم کر کے عوام کو بلاامتیاز اور حقیقی ریلیف فراہم کرے۔













