امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست ٹیکساس کے ملٹری بیس ’فورٹ ہوڈ‘ میں 2009ء کے ہولناک قتلِ عام میں ملوث قرار دیے جانے والے نضال حسن کی سزائے موت کے لیے فائرنگ اسکواڈ کے استعمال کی حتمی منظوری دے دی ہے۔
پینٹاگون نے پیر کی شب باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے نضال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے تختہ دار پر لٹکانے کی بجائے گولیاں مار کر ہلاک کرنے کی سفارش کی تھی، جسے صدر ٹرمپ نے قبول کر لیا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے سماجی رابطے کی سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں تصدیق کی کہ وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ جلد ہی اس جہادی مجرم کی سزائے موت کے وقت اور مقام کا تعین کریں گے، جس نے 2009ء میں فورٹ ہوڈ بیس پر غیر مسلح امریکی فوجیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔
ترجمان پینٹاگون کا کہنا تھا کہ نضال حسن نے حملہ کے دوران ‘اللہ اکبر’ کے نعرے لگاتے ہوئے 13 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا جبکہ 32 افراد کو شدید زخمی کر دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج بالآخر نضال حسن کے لیے یومِ حساب اور انصاف کا وقت آ پہنچا ہے۔
نضال حسن کون؟
امریکا میں فورٹ ہوڈ ملٹری بیس پر 2009ء میں ہونے والے خونریز حملے کے مجرم نضال حسن کا تعلق بنیادی طور پر طب اور امریکی فوج دونوں سے رہا ہے۔
امریکا کی ریاست ورجینیا میں پیدا ہونے والے نضال حسن کے والدین یروشلم کے قریب واقع ایک فلسطینی قصبے سے ہجرت کر کے امریکا آئے تھے۔ ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ امریکی فوج میں شامل ہو گئے اور ملٹری اسکالرشپ پروگرام کے تحت میڈیکل کی تعلیم حاصل کی۔
بعد ازاں، انہوں نے ماہرِ نفسیات کے طور پر تربیت حاصل کی اور ‘والٹر ریڈ آرمی میڈیکل سینٹر’ میں خدمات انجام دیں، جہاں ان کی ذمہ داری عراق اور افغانستان میں جنگی محاذ سے واپس لوٹنے والے امریکی فوجیوں کا علاج معالجہ اور نفسیاتی بحالی تھی۔
حملے سے قبل نضال حسن کے ساتھ کام کرنے والے اور ان سے واقف افراد انہیں خاموش طبع، مذہبی رجحان رکھنے والے اور تنہا پسند شخص کے طور پر جانتے تھے۔ تاہم، بعد میں ان کے سابقہ ساتھیوں اور رشتہ داروں نے انکشاف کیا کہ وہ عراق اور افغانستان کی جنگوں سے شدید ذہنی کوفت اور بے چینی کا شکار تھے اور بیرونِ ملک تعینات کیے جانے کے امکان سے خوفزدہ رہتے تھے۔ ان کے کزن نادر حسن کے مطابق بیرونِ ملک جنگی محاذ پر تعیناتی نضال کے لیے ’کسی برے خواب‘ سے کم نہ تھی۔
سربراہان کی جانب سے ملٹری ریکارڈ میں حملے سے قبل نضال حسن کی پیشہ ورانہ کارکردگی میں درپیش مشکلات کو بھی قلمبند کیا گیا تھا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق والٹر ریڈ سینٹر میں ان کی کارکردگی کی رپورٹ انتہائی ناقص رہی تھی، جس کی وجہ سے انہیں اضافی کونسلنگ اور سخت نگرانی میں رکھا گیا تھا۔ اسی دوران، تحقیقاتی اداروں نے نضال کے نام سے منسوب کچھ آن لائن پوسٹس کا بھی جائزہ لیا تھا جن میں مسلمانوں کے دفاع میں تشدد کو جائز قرار دیا گیا تھا، تاہم حکام اس وقت حتمی طور پر یہ ثابت نہیں کر سکے تھے کہ وہ پیغامات خود نضال حسن نے ہی تحریر کیے تھے۔
فورٹ ہوڈ حملہ اور عدالتی کارروائی
5 نومبر 2009ء کو نضال حسن فورٹ ہوڈ ملٹری بیس کے اس پروسیسنگ سینٹر میں داخل ہوئے جہاں امریکی فوجی بیرونِ ملک تعیناتی کے لیے تیاریاں کر رہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق، انہوں نے لیزر رائفل اور دستی ہتھیار سے ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے بے گناہ اور غیر مسلح فوجیوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ اس حملے میں 13 افراد ہلاک اور 30 سے زائد زخمی ہوئے، جس نے اسے امریکی ملٹری بیس کی تاریخ کے خونریز ترین واقعات میں سے ایک بنا دیا۔
جوابی کارروائی میں سول پولیس افسران کی فائرنگ سے نضال حسن شدید زخمی ہو گئے مگر بچ نکلے، تاہم اس واقعے میں ان کا نچلا دھڑ مفلوج ہو گیا۔ تب سے وہ ریاست کنساس کے فورٹ لیوین ورتھ میں واقع امریکی فوجی قید خانے میں بند ہیں۔
2013ء میں کورٹ مارشل کی کارروائی کے دوران نضال حسن نے اپنے دفاع میں کوئی خاص شواہد پیش نہیں کیے اور نہ ہی پراسیکیوشن کے کیس کو چیلنج کیا۔ اس کے برعکس، انہوں نے جيوری کے سامنے خود کو حملہ آور تسلیم کرتے ہوئے علانیہ کہا کہ اس نے ایک ایسے امریکی فوجی کا کردار ادا کیا ہے جو ’دوسرے فریق (حریف) سے جا ملا ہے‘۔ ان کا موقف تھا کہ اس اقدام کا مقصد امریکی افواج کو مسلم ممالک پر حملوں اور تعیناتیوں سے روکنا تھا۔
ملٹری جیوری نے تمام حقائق کا جائزہ لینے کے بعد انہیں 13 افراد کے پیشگی منصوبہ بندی کے تحت قتل اور مزید درجنوں افراد کو قتل کرنے کی کوشش کے تمام الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔














