مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

جمعہ 9 اکتوبر 2026
author image

عامر خاکوانی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

   چھ اکتوبر کی دوپہر نئی دہلی کی پارلیمنٹ اسٹریٹ پر جو منظر دیکھنے کو ملا، وہ بھارتی سیاست میں کم ہی دیکھا گیا ہے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی ہاتھ میں ترنگا لیے پولیس کی جانب سے لگائے گئے بیرئر پر کھڑے نعرے لگا رہے تھے۔ پریانکا گاندھی کو پولیس بس میں بٹھا رہی تھی، جبکہ  اکھلیش یادو، ملکارجن کھڑگے اور ابھیشیک بینرجی جیسے رہنما سڑک پر دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ مطالبہ ایک ہی تھا: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ دیں۔ راہول اور پریانکا نے آکاش وانی بھون کے احاطے میں نو گھنٹے سے زیادہ دھرنا دیا، پھر حراست میں لیے گئے۔ اسی روز راہول نے ایکس پر جین زی کےانداز میں ٹوئٹ کیا: گیانیش، کھیل ختم ہو گیا، اب استعفیٰ دے دو۔

    خاکسار تین عشروں سے برصغیر کی سیاست دیکھ رہا ہے۔ اپوزیشن کا وزیراعظم کے خلاف متحد ہونا عام بات ہے، مگر کسی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف پورے ملک کی اپوزیشن کا یوں اکٹھا  ہو جانا اور نوجوانوں کی ایک نئی لہر کا اس میں شامل ہونا غیر معمولی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ سب کیا اور کیوں ہو رہا ہے؟

           انڈین ایکسپریس کی رپورٹ بھونچال لائی

   طوفان کی ابتدا تئیس ستمبر کو ہوئی جب معروف بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے صحافی ریتیکا چوپڑا کی تحقیقاتی رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کے تین ارکان میں سے دو، سکھبیر سنگھ سندھو اور ویویک جوشی، نے پچھلے دس ماہ میں کم از کم چودہ مرتبہ تحریری اعتراضات ریکارڈ کرائے کہ کئی اہم فیصلے ان کے علم یا منظوری کے بغیر جاری ہوئے۔

    دونوں ارکان کے اعتراضات عام یا معمولی نہیں تھے۔ ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی، جسے ایس آئی آر کہا جاتا ہے، کے دوران ناموں کا اخراج اور بحالی، نئے ووٹروں کے فارم چھ میں تبدیلی، ووٹر ڈیٹا بیس کو مرکزی کنٹرول میں لینا اور کمیشن کے نام سے بغیر منظوری کی خط و کتابت، سب ان میں شامل تھے۔

    سب سے سنگین بات یہ کہ جب چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے اپنے ان دونوں ارکان کی بات کو ذرا برابر بھی اہمیت نہیں دی تو دونوں کمشنروں نے کابینہ سیکرٹری کو خط لکھ دیا۔ یعنی کمیشن کے دو ارکان اپنے ہی سربراہ کی شکایت لے کر حکومت کے دروازے پر پہنچ گئے۔

بی جے پی  نوجوان ووٹروں سے خوفزدہ ہے

  اس تنازع میں سب سے اہم فیکٹر یہ رہا کہ اپوزیشن کے بقول مودی حکومت نے اپنے چیف الیکشن کمشنر کے ذریعے نوجوان ووٹروں کی اگلے الیکشن میں انٹری روکنے کی کوشش کی ۔ اس حوالے سے وہاں فارم چھ کا بہت ذکر ہو رہا ہے ، جس  نے نوجوانوں کو براہ راست متاثر کیا۔ اسے پر کر کے کوئی شہری پہلی بار ووٹر بنتا ہے۔ تبدیلی کے بعد درخواست گزار کو بتانا لازمی ہو گیا کہ وہ خود یا اس کے رشتہ دار پچھلی ایس آئی آر فہرست میں موجود تھے یا نہیں۔ بظاہر تکنیکی شق ہے ، مگر عملاً ان لاکھوں لوگوں کے لیے رکاوٹ جن کے والدین نقل مکانی کرنے والے مزدور تھے یا جن کے کاغذات ادھورے تھے۔

 کیا تیرہ کروڑ ووٹر غائب کر دیے گئے؟

اپوزیشن کا الزام ہے کہ کئی ملین نوجوان، خاص طور پر پہلی بار ووٹ ڈالنے والے، اپنے حق سے محروم ہو گئے۔

  جبکہ  کانگریس کے رکن پارلیمان دھرم ویر گاندھی کا دعویٰ ہے کہ مجموعی طور پر تقریباً تیرہ کروڑ نام ووٹر لسٹوں سے نکالے گئے۔ مختلف میڈیا رپورٹس میں یہی تعداد آ رہی ہے ۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ دانستہ کیا گیا اور مقصد اینٹی مودی ووٹ بنک کو الیکشن سے باہر کرنا ہے۔ یوں لگتا ہے یہ بھارتی تاریخ کا سب سے بڑا انتخابی اسکینڈل ہوگا۔

                    چیف الیکشن کمشنر کا تقرر ہی متنازع رہا

بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر وزیراعظم، قائد حزب اختلاف اور چیف جسٹس پر مشتمل کمیٹی کرے گی تاکہ توازن قائم رہے۔ مودی حکومت نے بعد میں قانون بنا کر چیف جسٹس کو کمیٹی سے نکال دیا، ان کی جگہ ایک مرکزی وزیر بٹھا دیا۔ یوں کمیٹی میں حکومت کی اکثریت ہو گئی اور قائد حزب اختلاف محض ایک اختلافی آواز رہ گیا۔

   موجودہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کیرالہ کیڈر کے سابق بیوروکریٹ ہیں جو امت شاہ کی وزارت داخلہ میں اہم عہدوں پر رہے۔ ریٹائرمنٹ کے دو ماہ سے بھی کم عرصے میں وہ الیکشن کمشنر بنے اور انیس فروری دو ہزار پچیس کو چیف الیکشن کمشنر۔ راہول گاندھی نے سلیکشن کمیٹی میں اعتراض کیا مگر حکومت نے اسے نظرانداز کر دیا۔

   اب کیرالہ کے سابق چیف سیکرٹری جیجی تھامسن کا کہنا ہے کہ ایک پرواز کے دوران گیانیش کمار نے ان سے بی جے پی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی بات کی تھی۔ یہ الزام درست ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ ایسا شخص انتخابی ریفری کی کرسی پر کیسے بیٹھا ہے؟

 راہول گاندھی: پرانا الزام، نئی گواہی

    راہول گاندھی ایک سال سے ’ووٹ چوری‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کرناٹک کے حلقے مہادیو پورہ میں ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ چوری کا دعویٰ کیا تھا اور ایک کمرے کا مکان دکھایا تھا جس کے پتے پر اسّی ووٹر درج تھے۔ تب کمیشن نے الزام بے بنیاد کہا اور راہول سے حلف نامہ مانگا۔ اب کانگریس کہہ رہی ہے کہ حلف نامہ تو گیانیش کمار کو سپریم کورٹ میں دینا چاہیے۔

    راہول گاندھی کے مطابق الیکشن کمیشن کے دونوں ارکان کے اعتراضات نومبر دو ہزار پچیس میں ان کی ہریانہ والی پریس کانفرنس کے بعد شروع ہوئے، یعنی جو بات وہ باہر سے کہہ رہے تھے وہی کمیشن کے اندر سے بھی کہی جا رہی تھی۔ انہوں نے گیانیش کمار کو مشورہ دیا کہ استعفیٰ دیں اور وعدہ معاف گواہ بن جائیں، اور مودی و امت شاہ کے خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

           پوری اپوزیشن ایک صف میں

   اس بار اہم بات یہ ہوئی ہے کہ صرف راہول گاندھی نہیں بلکہ تمام اہم اپوزیشن لیڈرز جیسے ایم کے اسٹالن، ادھو ٹھاکرے، ممتا بینرجی، اکھلیش یادو، سب ایک ہی مطالبہ کر رہے ہیں۔ اروند کیجریوال نے گیانیش کمار پر غداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا، سنجے راوت نے کہا کہ وہ جیل جائیں گے۔ چھ اکتوبر کے مارچ میں بیجو جنتا دل کے ارکان بھی شامل ہو گئے جو عام طور پر انڈیا اتحاد کا حصہ نہیں سمجھے جاتے۔

   احتجاج دہلی سے کشمیر اور آسام سے مہاراشٹر تک پھیل چکا ہے۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ایک ہزار سے زائد اضلاع میں مظاہرے ہوئے۔ دہلی میں ’زندہ بھوت‘ کے نام سے احتجاج ہوا، ان لوگوں کا جو زندہ ہیں مگر ووٹر لسٹ میں مردہ قرار دیے گئے۔ ’ووٹ چور، گدی چھوڑ‘ کا نعرہ اب گلی گلی سنائی دیتا ہے۔

نیہا بورا، بھارتی مزاحمت کا نیا چہرہ

  پاکستانی سوشل میڈیا پر بھارتی مزاحمت کی نئی علامت کومل سی لڑکی نیہا بورا کی تصاویر اور ویڈیو کلپس گردش کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ہر تحریک اپنے چہرے خود تراشتی ہے، اس تحریک کا ایک نمایاں چہرہ نیہا بورا  ہیں۔ وہ بائیں بازو کی طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن، یعنی آئسا، کی قومی صدر اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر ہیں۔

   دو اکتوبر کو جنتر منتر پر انہیں یوگیندر یادو اور عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ حراست میں لیا گیا۔ چار اکتوبر کو ان کی وہ تصویر پورے بھارت میں پھیل گئی جس میں وہ پولیس بیرئر پر بلا خوف چڑھ رہی ہیں۔ آئسا کا الزام ہے کہ پولیس انہیں بغیر نمبر پلیٹ کی نجی گاڑی میں نامعلوم مقام پر لے گئی، گاڑی میں کوئی خاتون اہلکار نہیں تھی۔ رہائی کے وقت ان کا فون اور بیگ غائب تھے۔ رہائی کے بعد ان کا جملہ اس تحریک کی آواز بن گیا: ہم کتے، کیڑے یا حشرات نہیں ہیں۔

 کاکروچ جنتا پارٹی اور ابھیجیت دپکے

   اس معرکے کا دوسرا بڑا کردار جنریشن زی کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی ہے، جس کے بانی ابھیجیت دپکےانڈین طلبہ کے امتحانات پر احتجاجی  تحریک میں بہت معروف ہوئے۔ دپکے نے گیانیش کمار کو ملک کا سب سے بڑا غدار قرار دے کر اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا۔ دو اکتوبر کو ممبئی پولیس نے شیواجی پارک میں اجتماع کی اجازت نہیں دی، پھر بھی ہزاروں نوجوان شدید گرمی میں طنزیہ میمز والے پلے کارڈ اٹھائے وہاں جمع ہوئے۔

   دپکے سیاسی جماعت بنانے سے گریزاں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کو نئی پارٹی نہیں بلکہ ایسی عوامی تحریک چاہیے جو اداروں پر اعتماد اور جوابدہی بحال کرے۔ تجزیہ کار البتہ کہتے ہیں کہ یہ تحریک سیاسی جماعت بنی تو دو ہزار انتیس میں مودی کے لیے سنگین خطرہ ہوگی۔ بھارت کی اوسط عمر انتیس برس ہے، اور جس ووٹر لسٹ سے سب سے زیادہ نوجوان نکالے جانے کا الزام ہے، وہی نوجوان اب سڑکوں پر ہیں۔

مودی حکومت کا سیاسی جبر

مودی حکومت کا ردعمل وہی ہے جو طاقت کے نشے میں حکومتوں کا ہوتا ہے۔ دہلی میں ایک ہی دن سات سو سے زیادہ مظاہرین حراست میں لیے گئے، نئی دہلی میں دفعہ ایک سو تریسٹھ نافذ ہے۔ جنتر منتر، جو دہائیوں سے احتجاج کی علامت رہا ہے، ایک بھارتی اخبار کے بقول پولیس چھاؤنی بن چکا ہے۔ راہول گاندھی نے خوب کہا کہ لاٹھی ہجوم کو روک سکتی ہے، سوالوں کو نہیں۔

 الیکشن کمیشن کا کمزور موقف

   الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے کے سوالات معمول کی کارروائی ہیں، ادارہ جاتی اختلاف نہیں، اور فیصلے متفقہ تھے۔ بی جے پی پوچھ رہی ہے کہ رپورٹ میں دونوں کمشنروں کا کوئی آن ریکارڈ بیان کیوں نہیں۔ سوال مگر یہ ہے کہ اگر سب معمول کے مطابق تھا تو دس ماہ میں چودہ تحریری اعتراضات کیوں ہوئے، اور معاملہ کابینہ سیکرٹری تک کیوں پہنچا؟

    بھارتی سپریم کورٹ نے پانچ اکتوبر کو مرکز اور کمیشن کو نوٹس جاری کر کے کہا کہ کمیشن کے فیصلے متفقہ یا اکثریتی ہونے چاہئیں۔ عدالت نے گیانیش کمار کو معطل تو نہیں کیا، مگر کہا کہ اگر کچھ فیصلے اتفاق رائے کے بغیر ہوئے تو وہ واپس لے لیے جائیں گے۔

 آگے کیا ہوگا؟

    انڈیا اتحاد نے یکم نومبر کو نئی دہلی میں بڑی ریلی کا اعلان کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے لیے پارلیمان میں خصوصی اکثریت چاہیے جو اپوزیشن کے پاس نہیں، اس لیے یہ جنگ سڑک، عدالت اور رائے عامہ میں لڑی جائے گی۔

      بھارتی تاریخ میں ایک مثال اور ایک سبق موجود ہے۔ انیس سو پچھتر میں الہ آباد ہائیکورٹ نے اندرا گاندھی کا انتخاب انتخابی بدعنوانی پر کالعدم قرار دیا۔ جواب میں ایمرجنسی لگی اور اپوزیشن جیلوں میں ڈالی گئی، مگر انیس سو ستتر میں ووٹر نے اندرا کو عبرت ناک شکست دی۔ مودی خود دو ہزار چوبیس میں یہ اشارہ دیکھ چکے ہیں جب بی جے پی تنہا اکثریت نہ لے سکی، اسے اتحادی ملانےپڑے۔

     اصل سوال گیانیش کمار کی کرسی کا نہیں، اس اعتماد کا ہے جس سے وزیراعظم نریندرمودی کی حکومت محروم ہوچکی ہے۔ مودی جی ایک طاقتور لیڈر بننے کے خواہاں ہیں، وہ عالمی سطح پر بھی خود کو بڑا لیڈر بنانا چاہتے ہیں مگر انہیں وہاں بھی ناکامی ہوتی ہے۔ اب اندرون ملک بھی مودی جی کے ستارے گردش میں لگ رہے ہیں۔

 آپریشن سیندور مودی جی کو مہنگا پڑا

   دلچسپ بات یہ ہے کہ نریندرمودی کی قسمت تب سے سیاہ بادلوں میں گھر گئی، جب سے انہوں نے پاکستان کے خلاف نام نہاد آپریشن سیندور کیا تھا۔ ایک طرف پاکستان نے حملہ آوربھارت کو بدترین شکست دی، اس کے دانت کھٹے کر ڈالے۔ دوسری طرف اندرون ملک مختلف تنازعات شروع ہوگئے۔ پہلے طلبہ امتحانات کے معاملے پر مودی حکومت کو پسپا ہونا پڑا، ایک اہم وزیر کو استعفا دلوانا پڑا اور اب کی بار حکومت کی سائیڈ لینے والے چیف الیکشن کمشنر کی سیٹ خطرے میں ہے۔

  دراصل لگ یہ رہا ہے کہ اگلے الیکشن میں شائد بی جے پی کے ہاتھ سے اقتدار پھسل جائے گا۔ مجھے لگتا ہے کہ بی جے پی اور اس کی سرپرست آر ایس ایس کے انسائیڈ سرکل میں بھی یہی بات زیربحث ہو گی۔ عین ممکن ہے کہ الیکشن میں مودی کی جگہ نیا گھوڑا میدان میں اتارا جائے۔

  ہمارے ہاں بھارتی جمہوریت کی مثالیں دی جاتی رہی ہیں کہ وہاں کبھی مارشل لا نہیں لگا، انتخابات وقت پر ہوتے ہیں اور ادارے مضبوط ہیں۔ آج وہی بھارت اپنے الیکشن کمیشن پر سوال اٹھا رہا ہے۔ لگتا ہے انڈین عسکری قوت کی طرح ان کی جمہوریت بھی بری طرح ایکسپوز ہو رہی ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp