پی ٹی آئی والے اٹک سے ایک قدم آگے بڑ ھ کر تو دکھائیں، گورنر فیصل کریم کنڈی

منگل 6 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کو خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پارٹی کے لانگ مارچ کو پنجاب کے علاقے اٹک سے آگے بڑھنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی کیونکہ ان کے بقول پی ٹی آئی میں اس سے آگے جانے کی صلاحیت اور طاقت ہی موجود نہیں ہے۔

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے لانگ مارچ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا قافلہ اٹک سے آگے کسی صورت نہیں جا سکتا اور چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایک قدم آگے بڑھ کر تو دکھائیں‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریکِ انصاف کے پاس آگے بڑھنے کی صلاحیت ہی موجود نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ 20 لاکھ افراد لانے کے دعوے کرتے ہیں، لیکن عوام کہاں ہیں؟ ان کے پاس وہ صلاحیت ہی نہیں ہے‘۔

یہ بھی پڑھیے صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

گورنر نے افسوس کا اظہار کیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا اس وقت دہشتگردی کے عذاب سے گزر رہا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ لوگ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے بجائے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے میں مصروف ہیں۔

پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات ناکام ہونے کے بعد تحریکِ انصاف نے احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے، جس کی بنیادی وجہ انسدادِ دہشتگردی کی پالیسی پر دونوں فریقین میں عدم اتفاق بتائی جاتی ہے۔ اس وقت وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی قیادت میں نکلنے والا قافلہ 8 اکتوبر تک پنجاب کی سرحد پر واقع خیرآباد پہنچنے کا ارادہ رکھتا ہے، جہاں سے وزیراعلیٰ اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے اپنی حالیہ ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کی سیکیورٹی کی صورتحال اور پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات اور لانگ مارچ کے حوالے سے اکثر گفتگو ہوتی رہتی ہے۔

انہوں نے سیکیورٹی کے حوالے سے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے سوال اٹھایا ’اگر لانگ مارچ کے دوران کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے، خاص طور پر جنوب کے علاقے سے کوئی شخص اسلام آباد میں سازش کے تحت داخل ہونا چاہے، تو پی ٹی آئی کے پاس اسے روکنے کا کیا اسکریننگ اور حفاظتی نظام موجود ہے؟‘

گورنر نے کے پی حکومت پر دہشتگردی کے واقعات پر پراسرار خاموشی اختیار کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب بھی وفاق ان سے عسکریت پسندی کے خلاف تعاون مانگتا ہے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ ‘فوج کو صوبے سے نکال دیا جائے اور افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں’۔ انہوں نے عمران خان پر ماضی میں عسکریت پسندوں کو خیبر پختونخوا میں بسانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے انہیں ’طالبان خان‘ کہا جاتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے گورنر راج کے حوالے سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی، پی ٹی آئی اراکین مارچ سے راہِ فرار کے لیے خود کو گرفتار کروا رہے ہیں، فیصل کریم کنڈی

فیصل کریم کنڈی نے مزید دعویٰ کیا کہ وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی دراصل پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ مراد سعید کو بھی قانون کے سامنے جواب دہ بنایا جائے گا اور عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

صوبے میں گورنر راج کے امکان کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ گورنر راج ہمیشہ آخری حد اور آخری آپشن ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سرجری ہمیشہ آخری حل ہوتی ہے، پہلے مریض کو ادویات پر رکھا جاتا ہے۔ کوئی بھی گورنر راج نہیں چاہتا۔ ہم چاہتے ہیں کہ معاملات معمول کے مطابق چلتے رہیں، لیکن اگر بات حد سے بڑھ جائے اور کوئی دوسرا راستہ نہ بچے تو پھر اس آپشن پر غور کیا جاتا ہے اور اگر صدر و وزیراعظم فیصلہ کریں گے تو اس کا نفاذ کیا جائے گا‘۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp