ماہرین فلکیات نے ایسا انوکھا سیارہ دریافت کیا ہے جو ایک دم توڑتے ستارے سے خارج ہونے والے مادے سے وجود میں آیا اور اب اسی ستارے کے بچے ہوئے انتہائی کثیف حصے کے گرد گردش کررہا ہے۔
محققین کے مطابق یہ سیارہ ہمارے نظام شمسی سے باہر موجود سیارہ ہے جسے دوسری نسل کا سیارہ قرار دیا گیا ہے۔ یہ عام سیاروں کے برعکس کسی نئے بننے والے ستارے کے گرد موجود مادے کی گردابی ڈسک سے نہیں بنا بلکہ ایک تباہ ہونے والے ستارے سے خارج ہونے والے باقی ماندہ مادے سے وجود میں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: نایاب ترین نظارہ: ’افراتفری کا دیوتا‘ نامی سیارچہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں بنا دوربین کب دیکھا جاسکے گا؟
برطانیہ کی یونیورسٹی آف واروک کے ماہر فلکیات اور تحقیق کے مرکزی مصنف جیمی ولیمز نے اسے سفید بونے کے گرد بننے والا اپنی نوعیت کا پہلا معلوم سیارہ قرار دیا۔ سفید بونا وہ انتہائی کثیف ستارہ نما باقیات ہے جو کسی ستارے کے خاتمے کے بعد پیچھے رہ جاتی ہیں۔
یہ سفید بونا زمین سے تقریباً 250 نوری سال دور، سیٹس نامی جھرمٹ کے قریب واقع ہے۔ اس کے گرد گردش کرنے والا سیارہ گیسوں سے بنا ایک دیوہیکل سیارہ ہے جو ممکنہ طور پر مشتری سے قدرے زیادہ کمیت رکھتا ہے۔
سیارہ ہر 4.4 دن میں سفید بونے کے گرد ایک چکر مکمل کرتا ہے اور زمین و سورج کے درمیان فاصلے کے صرف 4 فیصد فاصلے پر موجود ہے۔ سفید بونے کی شدید بالائے بنفشی شعاعوں کے باعث سیارے کی بیرونی فضا مسلسل بخارات میں تبدیل ہو رہی ہے، جس کا کچھ حصہ دوبارہ سفید بونے میں جا گرتا ہے۔
سیارے میں نیوبیم، تانبے اور زنک کی وافر مقدار پائی گئی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ عناصر ان مادوں میں شامل ہیں جو بعض دم توڑتے ستارے اپنے آخری مراحل میں خارج کرتے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیارہ اسی خارج شدہ مادے سے بننے والی ڈسک سے وجود میں آیا۔
یہ بھی پڑھیں: صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی
جیمی ولیمز کے مطابق دیومالائی داستانوں میں فینکس پرندہ اپنی ہی راکھ سے دوبارہ جنم لیتا ہے، اسی طرح یہ سیارہ اپنے میزبان ستارے کی راکھ سے دوبارہ وجود میں آیا اور یوں ایک نیا سیاروی نظام تشکیل پایا۔
محققین نے ہبل، ٹیس اور فیوز خلائی دوربینوں سے حاصل کردہ معلومات استعمال کیں اور اپنے نتائج کی مزید تصدیق کے لیے جیمز ویب خلائی دوربین سے مشاہدات کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس سیارے پر زندگی کے لیے حالات سازگار نہیں، تاہم مستقبل میں کسی دوسرے نظام میں دوسری نسل کا چٹانی سیارہ قابل رہائش ہوسکتا ہے۔ سفید بونے وقت کے ساتھ ٹھنڈے ہوتے ہیں اور اگر ایسا چٹانی سیارہ مناسب فاصلے پر تشکیل پائے تو وہ اربوں سال تک قابل رہائش خطے میں رہ سکتا ہے۔
اسی جریدے میں شائع ہونے والی ایک دوسری تحقیق میں زمین سے تقریباً 300 سے 500 نوری سال دور ثور کے جھرمٹ میں ایک سرخ بونے ستارے اور بھورے بونے کے غیر معمولی نظام کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سائنسدانوں کا 60 سالوں سے زمین کے ساتھ محوِ سفر نیا چاند دریافت کرنے کا دعویٰ، ناسا کی تصدیق
محققین کے مطابق سرخ بونا سورج کی کمیت کا تقریباً 8 فیصد ہے جبکہ بھورا بونا مشتری سے تقریباً 30 گنا زیادہ کمیت رکھتا ہے۔ دونوں اجسام ہر 87 منٹ میں ایک دوسرے کے گرد چکر مکمل کرتے ہیں اور ان کے درمیان فاصلہ زمین اور چاند کے فاصلے کے نصف سے کچھ زیادہ ہے۔
سائنسدانوں نے سرخ بونے کی سطح پر ایک گرم مقام بھی دریافت کیا ہے جہاں بظاہر بھورے بونے سے کھینچا جانے والا مادہ جا کر گرتا ہے۔ تحقیق کے مرکزی مصنف ایرون ہاؤس ہولڈر کے مطابق یہ اس مظہر کا پہلا مشاہدہ شدہ نمونہ ہے۔














