حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب مذاکرات کی ناکامی کے بعد خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے لانگ مارچ کا آغاز کردیا گیا تھا، جو اس وقت کی اطلاعات کے مطابق کوہاٹ کی جانب گامزن ہے اور ممکنہ طور پر اسلام آباد بھی آ سکتا ہے۔ اگر یہ لانگ مارچ احتجاج اسلام آباد میں آتا ہے تو اس حوالے سے وفاقی حکومت کے پاس کون سے آپشنز موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی مذاکرات کی آفر اب بھی موجود، پی ٹی آئی پہلے لانگ مارچ ختم کرے، رانا ثنااللہ
اس حوالے سے سب سے بڑا آپشن تو اسلام آباد ہائی کورٹ کا 18 ستمبر کا حکمنامہ ہے جس میں ہائیکورٹ نے کہا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہونے چاہییں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو عوامی عہدوں پر موجود شخصیات اپنے عہدے کے حلف کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوں گی۔
لیکن اس واضح عدالتی حکمنامے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس احتجاج سے نمٹنے کے لیے کون کون سے آپشنز موجود ہیں، اس کے لیے ہم نے معروف قانون دانوں سے ان کی رائے جاننے کی کوشش کی ہے۔
حکومت ڈپٹی کمشنر کے ذریعے سے سیکشن 144 کا نفاذ کرسکتی ہے، ہارون رشید
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون رشید نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان تحریکِ انصاف اسلام آباد میں لانگ مارچ لے کر آتی ہے تو حکومت ڈپٹی کمشنر کے ذریعے سے سیکشن 144 کا نفاذ کر سکتی ہے جس کے تحت 5 سے زائد بندے ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے۔ اس کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام کریں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکمنامے کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر لانگ مارچ آتا ہے تو ظاہر ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہی ہو گی کیونکہ ہجوم تو کوئی عدالتی حکمنامہ نہیں دیکھتا، وہ تو اپنی من مانی ہی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صوبے میں دہشتگردی اور وزیراعلیٰ لانگ مارچ میں، گورنر راج یا ایمرجنسی کا فیصلہ وفاق کرے گا، فیصل کریم کنڈی
انہوں نے کہا کہ لاء اینڈ آرڈر کو کنٹرول کرنا حکومت کا کام ہے اور حکومت اس کام سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے توڑ پھوڑ کرنا، جیسا کہ یہ پہلے پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر قبضہ کرنا چاہتے تھے، لیکن ان ہتھکنڈوں سے ان کے مطالبات منظور نہیں ہوں گے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکمنامہ ہے جس کی بنیاد پر حکومت کارروائی کرسکتی ہے، جہانگیر جدون
سابق ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے وی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکمنامہ موجود ہے اور ہائیکورٹ یہ کہہ چکی ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہییں۔ دفعہ 144 تو پہلے ہی اسلام آباد میں نافذ ہے لیکن اصل چیز اسلام آباد ہائیکورٹ کا حکمنامہ ہے جس کی بنیاد پر حکومت کارروائی کرسکتی ہے۔
کچھ عناصر عدالتوں کے کندھے پر بندوق رکھ کے چلانا چاہتے ہیں، ذوالفقار احمد بھٹہ
سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ذوالفقار احمد بھٹہ نے کہا کہ اس وقت طاقت کا استعمال خطرناک ہوسکتا ہے اور اس سے ردعمل پیدا ہو گا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جو آرڈر ہے وہ قانونی طور پر درست نہیں کیونکہ یہ ایک انتظامی مسئلہ ہے اور ایسے معاملات کو طے کرنا انتظامیہ کا اختیار ہے۔ لیکن موجودہ حکومتی نظم و نسق میں کچھ عناصر عدالتوں کے کندھے پر بندوق رکھ کے چلانا چاہتے ہیں۔
ذوالفقار بھٹہ نے کہا کہ ملک میں اگر سکیورٹی صورتحال خراب تر ہو جائے تو آئین کا آرٹیکل 5 اس کا حل بتاتا ہے کہ ملک کی سکیورٹی سب سے مقدم ہے اور اگر کوئی ایسی صورت حال پیدا ہو جس سے ملک کی سیکیورٹی کو خطرات لاحق ہوں تو ایسی صورت میں فوجی اقدام بھی کیا جاسکتا ہے۔













