صوبے میں دہشتگردی اور وزیراعلیٰ لانگ مارچ میں، گورنر راج یا ایمرجنسی کا فیصلہ وفاق کرے گا، فیصل کریم کنڈی

منگل 6 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں دہشتگردی کے خطرے اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر انہوں نے آئی جی اور چیف سیکریٹری کے ساتھ صرف معلومات کے حصول کے لیے ملاقات کی، اس پر لوگوں کو اتنا خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ آئی جی اور چیف سیکریٹری سے ان کی ملاقات سے لوگوں کو کیوں اتنا خوف ہے اور یہ تاثر کیوں دیا جارہا ہے کہ صوبے میں گورنر راج لگ گیا ہے۔ آج صوبے کا وزیراعلیٰ لانگ مارچ میں ہے، ڈی آئی خان میں 5 افراد شہید ہوئے ہیں جن میں 4 کسٹمز اور ایک پولیس اہلکار شامل ہے، جبکہ صوبے کی ساری حکومت سڑکوں پر ہے، پوچھنے والا کون ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی والے اٹک سے ایک قدم آگے بڑ ھ کر تو دکھائیں، گورنر فیصل کریم کنڈی

انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی ہے، صوبے کو خطرہ ہے اور لوگ خطرے میں زندگی گزار رہے ہیں، ایسی صورتحال میں کیا گورنر معلومات کے لیے اجلاس بھی نہ بلائے۔ اگر کسی کو ان کے اجلاس بلانے پر تکلیف ہوئی ہے تو وہ کچھ نہیں کہہ سکتے، تاہم آئینی طور پر وہ اجلاس بلا سکتے ہیں۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ انہوں نے آئی جی یا چیف سیکریٹری کو کوئی ہدایات نہیں دیں اور نہ کسی کو تعینات کرنے یا فنڈز دینے سے متعلق کوئی حکم دیا، صرف یہ جاننے کے لیے اجلاس بلایا تھا کہ صوبے میں کیا ہورہا ہے۔ اسی اجلاس کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ ڈی آئی خان میں واقعہ پیش آیا ہے اور 5 افراد شہید ہوئے ہیں۔

گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ اگر صوبے کا وزیراعلیٰ مٹر گشت پر نکلا ہو اور صوبہ دہشتگردوں کے حوالے کردیا گیا ہو تو وہ کیا کریں۔ اگر وزیراعلیٰ موجود نہ ہو، لوگ شہید ہورہے ہوں اور وزیراعلیٰ یہ کہے کہ وفاقی حکومت کی دہشتگردی کے خلاف پالیسی سے متفق نہیں تو کیا صوبہ دہشتگردوں کے حوالے کردیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: صوبے کو بچانے کے لیے ایمرجنسی لگانا پڑی تو ضرور لگائیں گے، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو یہ زحمت نہیں ہوتی کہ سیکیورٹی فورسز پر ہونے والے ڈرون حملوں کے خلاف صوبائی اسمبلی میں مذمتی قرارداد لے آئے۔ اگر افغانستان کا کوئی وزیر دھمکی دے کہ وہ پشاور پر قبضہ کرلیں گے اور صوبائی حکومت اسے جواب نہیں دے سکتی، لیکن انہیں گورنر کے اجلاس بلانے پر قانون یاد آگیا ہے۔

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وہ صوبے کی صورتحال کے حوالے سے رپورٹ وفاقی حکومت کو ارسال کریں گے، جس کے بعد وفاقی حکومت اور صدر مملکت آئین کے مطابق گورنر راج یا ایمرجنسی سے متعلق کوئی فیصلہ کریں گے تو اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp