پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب عسکری قیادت، سیاسی قیادت اور تمام سیاسی جماعتیں مل کر طے کریں کہ کس حکمت عملی کے تحت دہشتگردی کا خاتمہ کرنا ہے۔
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ کون سا پاکستانی ہے جو دہشتگردی کے خلاف نہیں، وہ نہیں سمجھتے کہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھنے والا کوئی ایسا شخص ہوگا جو دہشتگردی ختم نہیں کرنا چاہتا۔ دہشتگردی ختم کرنا پاکستان کے لیے سب سے اہم ہے۔
مزید پڑھیں: لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے حکومت کے پاس کون سے قانونی آپشن ہیں؟
انہوں نے کہاکہ چاہے کوئی پی ٹی آئی کے باہر ہو یا پی ٹی آئی کے اندر، اگر وہ دہشتگردی کو سپورٹ کرے گا تو وہ اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ انہیں اس ملک سے دہشتگردی ختم کرنی ہے، لیکن سوال یہ ہونا چاہیے کہ دہشتگردی کیسے ختم ہوگی۔
’دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر فیصلہ کرنا ہوگا‘
بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ دہشتگردی تب ختم ہوگی جب عسکری قیادت، سیاسی قیادت اور تمام سیاسی جماعتیں، جن کے پیچھے عوام ہیں، سب اکٹھے ہوں اور فیصلہ کریں کہ کس حکمت عملی کے تحت دہشتگردی کو ختم کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ صرف الزام نہ لگائیں کہ ہم دہشتگردوں کو سپورٹ کررہے ہیں، بلکہ یہ کہیں کہ ہم وفاقی حکومت کی حکمت عملی کے ساتھ نہیں چل رہے۔ اس وقت جو کچھ کہا جارہا ہے یہ الزامات ہیں اور اس طرح ہمیں دیوار کے ساتھ لگایا جاتا ہے، ہم بھی واپس الزام آپ کے اوپر لگاتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ الزام تراشی کی سیاست فائدہ دہشتگردوں کو ہورہا ہے۔ اگر دہشتگردی ختم کرنی ہے تو آپس میں بیٹھنا ہوگا، بیٹھ کر آگے چلنا ہے اور بیٹھ کر اس کو ختم کرنا ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف الزام لگا کر کہ تم دہشتگرد ہو، تم غدار ہو، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
’مذاکرات دوبارہ ہوں گے، اس بار باقاعدہ شرائط اور ٹی او آرز کے ساتھ بیٹھیں گے‘
بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ مذاکرات کی نشستیں ہوئیں، تاہم تاہم ایک اسٹیج پر آکر ڈیڈلاک پیدا ہوگیا۔
انہوں نے کہاکہ مذاکرات دوبارہ ہوں گے اور یہ صرف لانگ مارچ کے پریشر سے نہیں ہوں گے، بلکہ پاکستان کے حالات ایسے ہیں کہ ہر محب وطن پاکستانی کو مذاکرات کی ضرورت ہے، اس لیے مذاکرات ہونے ہیں، لیکن اس بار جو مذاکرات ہوں گے وہ باقاعدہ شرائط اور ٹی او آرز کے ساتھ ہوں گے۔
’مذاکراتی ٹیم کے پاس اختیار نہیں تھا‘
بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ پہلے ان سے بھی غلطی ہوئی، اس کا اعتراف کرنا چاہیے۔ ان کی مذاکراتی ٹیم کی ابھی تک بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، اس لیے ان کے پاس یہ اختیار بھی نہیں تھا کہ وہ اتنی بڑی بڑی چیزیں مان لیتے۔
انہوں نے کہاکہ وہ توقع بھی نہیں کر رہے تھے کہ اتنی بڑی چیزیں مذاکرات میں آئیں گی۔ اختیار کے بغیر وہ اتنی بڑی بڑی چیزیں کیسے مان سکتے تھے، نہ کوئی پہلے ٹی او آرز آئے تھے کہ یہ چیزیں بھی ڈسکشن میں آئیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کا تو ایک ایجنڈا تھا اور وہ ایجنڈا یہ تھا کہ وہ ڈائیلاگ کرنا چاہتے ہیں، ٹیبل پر بیٹھنے کو تیار ہیں، لیکن پہلے ان کی ملاقات بانی پی ٹی آئی عمران خان سے کرا دی جائے، اس کے بعد اگلی مذاکراتی ٹیم بنائی جائے گی اور وہ تمام معاملات پر مذاکرات کرے گی۔
بیرسٹر علی ظفر کے مطابق حکومت نے کہنا شروع کردیا کہ وہیں مذاکرات کے دوران ہی دستخط کریں، یہ حکمت عملی بھی مانیں اور لانگ مارچ بھی ختم کردیں، پھر حکومت وعدہ کرتی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرا دیں گے۔ ان کے مطابق یہ بات درست نہیں تھی۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ آخر میں محمود خان اچکزئی نے آکر کہہ دیا تھا کہ جب تک بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوگی، وہ آگے نہیں جاسکتے اور انہوں نے فل اسٹاپ کردیا تھا۔ سہیل آفریدی کا بھی یہی پیغام آیا تھا، اس کے بعد مذاکراتی ٹیم نے مزید بات نہیں کی۔
انہوں نے کہاکہ جو بھی اندر ہورہا تھا، انہیں معلوم نہیں، تاہم باہر سے ظاہر ہے کہ حکومت غلط لوگوں یعنی بے اختیار لوگوں کے ساتھ بات چیت کر رہی تھی۔ اگر محمود خان اچکزئی اور سہیل آفریدی بیٹھے ہوتے تو معاملہ حل ہوجاتا۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ اگر محمود اچکزئی اور سہیل آفریدی بھی بیٹھے ہوتے تو انہوں نے بھی یہی کہنا تھا کہ پہلے ہماری بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کرائیں۔
’پیپلز پارٹی کی قیادت اپنی مذاکراتی ٹیم سے مشاورت کرتی رہی‘
انہوں نے کہاکہ ہر سیاسی پارٹی کا ایک لیڈر ہے، مسلم لیگ ن لے لیں، اس کا کون لیڈر ہے، ہر چیز ان کے پاس جارہی تھی، مذاکراتی میز سے بھی وہاں معلومات جارہی تھیں اور بار بار بات ہورہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے سربراہ آصف زرداری یا بلاول بھٹو سے بھی مشاورت ہر پانچ منٹ بعد ہورہی تھی، لیکن ان کے لیڈر کو بند کیا ہوا ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو فیصلے کا اختیار نہیں دیا تھا، جبکہ محمود خان اچکزئی کو عمران خان نے مذاکرات کا اختیار دیا ہوا ہے۔
انہوں نے کہاکہ یہ اختیار عمران خان نے ان کے سامنے دیا تھا۔
’ایک سال سے عمران خان سے کسی کی ملاقات نہیں ہوئی‘
ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ ان کے پاس یہ حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنے لیڈر سے بھی مشاورت کرلیں، جس طرح دوسرے لوگ کررہے تھے۔
انہوں نے کہاکہ ایک سال سے ان کے لیڈر بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی، ایک سال سے کوئی شخص ان سے نہیں ملا، تو انہیں معلوم نہیں کہ وہ کس طرح سوچ رہے ہیں، ان کے خیالات کیا ہیں اور وہ مذاکرات کے بارے میں کس طرح آگے چلنا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ کوئی بڑی چیز نہیں مانگ رہے، صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ انہیں مشاورت کرنے دی جائے۔
’موجودہ قیادت مذاکرات میں بیٹھ سکتی ہے‘
موجودہ قیادت کے حکم نامے کے خلاف جانے اور اس کے باوجود مذاکرات میں بیٹھنے سے متعلق سوال پر بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ حالات کو دیکھتے ہوئے وہ مذاکرات میں بیٹھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ انہوں نے فیصلہ کیاکہ کم از کم ٹیبل پر بیٹھتے ہیں، حکومت کی بات سنتے ہیں کہ وہ کیا کہہ رہی ہے اور پھر ان سے اجازت لے کر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو پیش کرتے ہیں کہ حکومت یہ کہہ رہی ہے، آپ کا کیا خیال ہے، پھر ڈائیلاگ آگے چلے گا۔
ان کے مطابق یہ ایک طرح سے انہوں نے ایک سہولت اور پل کے طور پر کیا تھا، لیکن حکومت نے وہ پل بنانے کی کوشش نہیں مانی اور اپنی بات ان پر مسلط کردی کہ وہ طاقتور ہیں، اسی لیے مذاکرات ٹوٹ گئے۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ انہیں نہیں پتا کہ دستخط ہونے لگے تھے یا نہیں، لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ جب محمود اچکزئی نے پیغام بھیجا کہ آپ نے کوئی دستخط نہیں کرنا تو مذاکرات اس کے بعد آگے نہیں چلے۔
’حکومت دھمکیوں کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے‘
موجودہ ڈیڈ لاک کے حل سے متعلق سوال پر بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ حل بڑا سادہ ہے اور کسی نہ کسی طرح اسے حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہیے کہ انہیں دھمکیاں دینے کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ حکومت کی جانب سے ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی دھمکیاں درست نہیں۔
’سومنات کا ذکر جذباتی سیاسی بیان ہے‘
بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ سومنات کا ذکر کرنا یا کوئی ایسی سیاسی بات کرنا جذباتی بیانات ہوتے ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ہر طرف سے ہوتا ہے۔ آپ نے سنا ہوگا شہباز شریف آصف زرداری کے بارے میں کہتے تھے کہ میں لٹکا دوں گا، اور پھر بھی وہ اکٹھے بیٹھ رہے ہیں۔ یہ جذباتی ڈائیلاگ ہوتے ہیں۔
’لانگ مارچ پرامن اور آئین کے مطابق ہوگا‘
بیرسٹر علی ظفر نے واضح کیاکہ ان کا مارچ بالکل پرامن ہوگا اور آئین کے مطابق ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ وہ بار بار یہ ذکر کررہے ہیں کہ ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ آگے جو کرنے جارہے ہیں، وہ حکمت کے ساتھ کریں گے اور غصے کے بغیر کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت دھمکیاں دے کر اور ان کے لوگوں کو جیل میں ڈال کر چاہ رہی ہے کہ وہ غصہ کھائیں تاکہ وہ کوئی انتہائی قدم اٹھائیں، لیکن وہ غصہ نہیں کھائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ وہ پرامن مارچ کررہے ہیں اور اس مارچ کے انچارج سہیل آفریدی ہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی لانگ مارچ، کون سے اہم قائدین منظر سے غائب ہیں؟
مرکزی قیادت کے کنٹینر پر موجود نہ ہونے سے متعلق سوال پر بیرسٹر علی ظفر نے کہاکہ یہ سوال ان سے پوچھیں جو نہیں جارہے۔
’مذاکرات جلد شروع ہوں گے‘
مذاکرات کب تک شروع ہوں گے، اس سوال پر بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ کافی جلد، انشااللہ، مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے۔
انہوں نے واضح کیاکہ یہ کوئی اطلاعات نہیں بلکہ ان کی کیلکولیشن ہے۔













