آسٹریلیا کے سابق کرکٹر ایشلے نوفکے نے پاکستان کے کوچنگ اسٹاف سے علیحدگی کے بعد ایک جذباتی پیغام شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے قومی ٹیم کے ساتھ اپنے وقت اور اس دوران بننے والے رشتوں کو یاد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی نے ایشلے نوفکے کی جگہ پاکستان ٹیم کے نئے بولنگ کوچ کا اعلان کر دیا
نوفکے 23 ستمبر کو تقریباً 16 ماہ تک خدمات انجام دینے کے بعد پاکستان کے وائٹ بال بولنگ کوچ کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ بعد ازاں انہوں نے نیدرلینڈز کے ہیڈ کوچ بننے کا موقع حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
اپنی رخصتی کے بعد شیئر کیے گئے پیغام میں نوفکے نے پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے انہیں پاکستان مینز ٹیم کے ساتھ کام کرنے اور برصغیر میں کرکٹ کی باریکیوں کا تجربہ کرنے کا موقع دیا۔
نوفکے نے لکھا کہ ’پاکستان مینز کرکٹ ٹیم کے ساتھ کام کرنا اور برصغیر کی کرکٹ کی باریکیوں کا تجربہ کرنا میرے لیے اعزاز کی بات رہی اور یہ موقع دینے پر پاکستان کرکٹ بورڈ کا شکریہ’۔
انہوں نے خطے میں کرکٹ کے ارد گرد چیلنجز اور سیاسی دباؤ کو تسلیم کیا لیکن کہا کہ اپنے قیام کے دوران جن لوگوں سے وہ ملے انہوں نے ان کے تجربے کو خاص طور پر یادگار بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ برصغیر میں کرکٹ پر یقیناً چیلنجز اور سیاسی دباؤ ہو سکتا ہے لیکن اسے خاص بنانے والے لوگ ہیں اور مجھے بہت سے عظیم لوگوں (کھلاڑیوں، اسٹاف اور انتظامیہ) کے ساتھ کام کرنا بہت پسند آیا جو کرکٹ کے ارتقا کے بارے میں پرجوش ہیں۔
مزید پڑھیے: ایشلے نوفکی کا پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ سے الگ ہونے کا فیصلہ
49 سالہ سابق کرکٹر نے اپنے دور کے دوران ٹیم کی کامیابیوں پر بھی روشنی ڈالی، سیریز میں فتوحات اور یادگار میچوں کا ذکر کیا جبکہ اس بات پر زور دیا کہ ان کے بنائے ہوئے تعلقات ان کی سب سے پائیدار یادیں رہیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ہم نے کرکٹ کے شاندار میچ جیتے اور بہت سی سیریز میں کامیابیاں حاصل کیں لیکن مجھے لوگ اور تعلقات یاد رہیں گے اور یہی وہ چیز ہے جو اس کھیل کو منفرد بناتی ہے۔
سابق آسٹریلوی انٹرنیشنل نے کئی ذاتی لمحات کو بھی یاد کیا جنہوں نے انہیں خوش آمدید کا احساس دلایا جن میں ایک کھلاڑی کا انہیں اپنے خاندان کے ساتھ کھانا کھانے کی دعوت دینا، اسٹرینتھ اینڈ کنڈیشننگ کوچ گرانٹ لیوڈن کا ٹیم کے ماحول میں مثبت توانائی لانا اور ایک بورڈ ممبر کا انہیں اپنے خاندان کے ساتھ رات کے کھانے پر مدعو کرنا بھی شامل ہے۔
انہوں نے ایک ڈرائیور کی بھی تعریف کی جس نے ان سے بات چیت کے لیے انگریزی سیکھی اور ایک پولیس اسکواڈ کے اہلکار کی جس نے نوفکے اور ان کے خاندان کا خیال رکھنے کے لیے اضافی کوشش کی اور ان کے ساتھ اپنی ثقافت شیئر کی۔
نوفکے نے کہا کہ یہ بظاہر چھوٹے چھوٹے لمحات ہر ایک نے مجھے خوش آمدید اور صرف کھیل سے بڑی کسی چیز کا حصہ ہونے کا احساس دلایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ثقافتوں اور لوگوں کا ایک بہت ہی خاص انداز میں اکٹھا ہونا تھا۔
نوفکے نے پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کی خصوصی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نیوزی لینڈر کو برصغیر میں کوچنگ کے چیلنجز سے نمٹتے ہوئے دیکھ کر بہت کچھ سیکھا۔
انہوں نے لکھا کہ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کا بہت شکریہ اور برصغیر کی کرکٹ کے روزمرہ کے چیلنجز سے آپ کو نمٹتے دیکھ کر میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان ٹیم کی مایوس کن کارکردگی: ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو عہدوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ میں اس بات سے متاثر ہوا ہوں کہ آپ اہم چیزوں کو چیلنج کرنے کا انتخاب کیسے کرتے ہیں اور اپنے قابو سے باہر چیزوں کو منظم کرنے کے لیے حکمت عملیوں کو اپناتے اور تیار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام گفتگو اور کافیوں کے لیے اور خاندان کی حمایت کرنے کے لیے شکریہ اور میں اور آپ دونوں سمجھتے ہیں کہ ان کے بغیر کل وقتی بیرون ملک رہنا مشکل ہو سکتا ہے۔
نوفکے نے ہیسن کے ساتھ گفتگو، کافی اور بیرون ملک کام کرتے ہوئے خاندانی زندگی کے لیے ان کی حمایت کا بھی شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے خاندان ہمیشہ جڑے رہیں گے اور آپ کے ساتھ کام کرنا میرے لیے بہت بڑا اعزاز رہا ہے اور امید کرتا ہوں کہ کبھی دوبارہ بھی آپ کے ساتھ کام کروں۔
نوفکے جنہوں نے اپنے کھیل کے کیریئر کے دوران آسٹریلیا کے لیے ایک ون ڈے اور 2 ٹی 20 میچ کھیلے ابتدائی طور پر مستعفی ہونے کے فیصلے کے بعد سال 2026 کے ایشین گیمز میں پاکستان کی مہم سے وابستہ رہے۔
یہ بھی پڑھیے: شاہ چارلس سے ملاقات میں سلمان علی آغا کیوں نہیں تھے؟ مائیک ہیسن نے خاموشی توڑ دی
پی سی بی نے بعد ازاں آسٹریلیا کے سابق فاسٹ بولر شان ٹیٹ کو نوفکے کا متبادل مقرر کیا۔ کوچنگ میں یہ تبدیلی سری لنکا کے خلاف آئندہ 3 میچوں کی ٹی 20 سیریز اور انگلینڈ اور سری لنکا پر مشتمل ون ڈے ٹرائی سیریز کے لیے پاکستان کے اسکواڈز کے اعلان کے ساتھ کی گئی۔











