بھارت میں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا بلاک‘ کے احتجاج کے دوران مبینہ بدسلوکی کے الزام میں کانگریس رہنماؤں راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بدھ کو دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کے متعدد رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنا دیا اور نعرے لگائے، جس کے بعد کئی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا، تاہم بعد میں انہیں رہا کردیا گیا۔
Delhi deserves better than this.
Every day, the same cycle seems to repeat protests on the streets, public roads being blocked, police intervention, protesters being taken away in buses, and then the same scene again the very next day.
If Rahul Gandhi and other political… pic.twitter.com/niJwWXH10p
— CA Anurag (@CAAnurag_) October 7, 2026
اپوزیشن اتحاد نے آج احتجاج کا دائرہ بڑھانے کا اعلان کیا ہے، جس میں مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ ممتا بینرجی بھی شرکت کریں گی۔
بدھ کو کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی جانب سے دی گئی ظہرانے کی دعوت کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ طور پر احتجاج میں شرکت کا منصوبہ بنایا تھا۔ مختلف جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کی شرکت یقینی بنانے کے لیے 3 ایئرکنڈیشنڈ بسوں کا انتظام کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ووٹر فہرستوں میں بے ضابطگیوں پر بھارت میں احتجاج شدت اختیار کرگیا، راہول گاندھی سمیت متعدد اپوزیشن ارکان گرفتار
بسوں کو جنتر منتر سے تقریباً 2 کلومیٹر دور شانگری لا ہوٹل کے قریب اشوکا روڈ پر روک دیا گیا، جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے وہیں دھرنا دے دیا اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ اس دوران کئی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا گیا۔














