گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور آج پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے ایم این اے شیخ آفتاب احمد نے اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیّناتی کے ادارے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان سے استعفے دے دیے۔ ان استعفوں کی کیا وجوہات ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا
پاکستان مسلم لیگ ن کے اٹک سے ایم این اے شیخ آفتاب احمد کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل نو کے وقت طے ہوا تھا کہ دونوں جماعتوں کے اراکین ڈھائی ڈھائی سال جوڈیشل کمیشن کے رکن رہیں گے۔
ذرائع نے وضاحت کی کہ پہلے قومی اسمبلی سے ن لیگ کے نمائندے شیخ آفتاب جبکہ سینیٹ سے پاکستان پیپلز پارٹی کے نمائندے فاروق ایچ نائیک جوڈیشل کمیشن کے رکن تھے اور اب سینیٹ سے پاکستان مسلم لیگ ن اور قومی اسمبلی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن جو متوقع طور پر بلاول بھٹو زرداری ہیں وہ بطور جوڈیشل کمیشن اراکین آئیں گے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ہارون الرشید نے وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں استعفوں کے پیچھے کوئی خاص وجوہات نہیں بلکہ اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کی رضامندی سے استعفے دیے گئے ہیں اور ابھی ڈھائی سال کی مدت پوری نہیں ہوئی تھی بلکہ 2 سال ہی ہوئے تھے۔
مزید پڑھیے: عدالتی اصلاحات کے سلسلے میں اہم سنگ میل، نیشنل جوڈیشل اینالیٹکس ڈیش بورڈ کا باضابطہ اجرا
ہارون الرشید نے کہا کہ بلاول بھٹو کے بارے میں شنید ہے کہ وہ بطور جوڈیشل کمیشن رکن آ رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس عہدے کے لیے اچھے اور قابل شخص ہیں۔










