اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مختلف شعبوں کے لیے فنڈز کی منظوری دے دی

جمعرات 8 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے مختلف شعبوں کے لیے فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔

جمعرات کے روز وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے 17 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔ کمیٹی نے چھوٹے کاروباروں، کسانوں، سستی رہائش، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر شعبوں کے لیے مختلف اقدامات اور فنڈز کی منظوری دے دی۔

یہ بھی پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس، مختلف شعبوں کے لیے 5 ارب روپے سے زائد فنڈز کی منظوری

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے چھوٹے کاروباروں اور کسانوں کو قرضوں کی فراہمی بڑھانے کے لیے اسٹیٹ بینک کے تیار کردہ نئے مالیاتی طریقہ کار کی منظوری دی۔ نئے طریقہ کار کے تحت مائیکروفنانس اور دیگر غیر بینکاری مالیاتی اداروں کو حکومت کی موجودہ قرض ضمانتی اسکیموں میں شامل کیا جا سکے گا، جس کا مقصد چھوٹے کاروباروں اور کسانوں تک قرضوں کی سہولت مزید وسیع کرنا ہے۔

کمیٹی نے کم آمدن والے گھرانوں کے لیے سستی رہائش کے قرضوں کی فراہمی میں آسانی پیدا کرنے کے لیے موجودہ کریڈٹ گارنٹی فنڈ کے دائرہ کار میں توسیع کی بھی منظوری دی۔ اس اقدام سے سستی رہائش کے لیے قرضوں کی ضمانت کی موجودہ سہولت کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے گا۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سمیڈا کے منظور شدہ کاروباری منصوبے پر عمل درآمد کے لیے 2 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کرلی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی بندش کا عمل مکمل کرنے اور فوری مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے 11 ارب 32 کروڑ 90 لاکھ روپے کی منظوری دے دی۔

ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کمیٹی نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کے لیے 8 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ منظور کرلی۔ یہ رقم سرکاری و نجی شعبے کی شراکت سے بنیادی ڈھانچے کے ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور عمل درآمد میں معاونت کے لیے استعمال ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ریکوڈک منصوبے کے معاہدوں کی منظوری دیدی

کمیٹی نے تھر کول ریل رابطہ منصوبے کے لیے 10 ارب روپے کی منظوری دے دی۔ منصوبے کا مقصد تھر کے مقامی کوئلے کو بجلی کی پیداوار اور دیگر صنعتی شعبوں میں استعمال کے لیے نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

بلدیاتی انتخابات کے لیے بھی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اہم فنڈز کی منظوری دی۔ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات، سندھ اور بلوچستان میں ضمنی بلدیاتی انتخابات اور پنجاب میں حلقہ بندیوں کے لیے 59 کروڑ 61 لاکھ 80 ہزار روپے منظور کیے گئے۔

کمیٹی نے پنجاب، خیبرپختونخوا، اسلام آباد اور ملک بھر کے کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کے سامان کی خریداری کے لیے فوری طور پر 2 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری بھی دے دی۔

وزیراعظم آفس اور وزیراعظم اسٹاف کالونی کی ضروری مرمت اور دیکھ بھال کے لیے سی ڈی اے کو 30 کروڑ روپے کی منظوری دی گئی، جبکہ ترکیہ میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کوپ 31 میں پاکستان کی شرکت سے متعلق اخراجات کے لیے 15 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان اسپورٹس انڈومنٹ فنڈ کو فعال بنانے کے لیے تقریباً 93 کروڑ 45 لاکھ روپے کی منظوری دی۔ اسپورٹس انڈومنٹ فنڈ کا مقصد ملک میں کھیلوں کے شعبے کی ترقی میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

پاکستانی زرعی ماہرین کی چین میں تربیت کے لیے بھی فنڈز منظور کیے گئے۔ کمیٹی نے ایک ہزار پاکستانی زرعی ماہرین کی چین میں مختصر مدت کی تربیت کے لیے تقریباً ایک ارب 66 کروڑ 62 لاکھ روپے منظور کیے۔ تربیتی پروگرام کا مقصد جدید زرعی ٹیکنالوجی، تحقیق اور جدت کے شعبوں میں پاکستانی ماہرین کی صلاحیتیں بڑھانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پی آ ئی اے کے لیے 8 ارب روپے کی منظوری دے دی

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 2026 کی تمباکو فصل کی کم از کم رہنما قیمتوں اور مالی سال 2026-27 کے لیے سیس کی شرحوں میں نظرثانی کی تجویز بھی منظور کرلی۔

پاسکو کے صوبائی حکومتوں سے واجب الادا رقوم کی براہ راست کٹوتی سے متعلق تجویز مؤخر کردی گئی۔ پاسکو کی واجب الادا رقوم کا معاملہ متعلقہ فریقین سے مزید مشاورت کے بعد دوبارہ کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔

مقامی صنعت کے فروغ کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پاکستان میں تیار ہونے والے ٹائروں کی درآمد پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی سے متعلق ایس آر او میں ترمیم کی منظوری دے دی۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں ٹائروں کی مقامی صنعت اور پیداوار کو فروغ دینا ہے۔

کمیٹی نے ایف بی آر کے اصلاحاتی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کو 4 ارب روپے کی منظوری بھی دے دی۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کی رقوم کو منظور شدہ طریقہ کار کے تحت حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کے لیے استعمال کرنے کی منظوری دی۔ اس اقدام کا مقصد فنڈ کے وسائل کا بہتر استعمال اور مالی استحکام یقینی بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp