وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بدھ کو مختلف اہم شعبوں کے لیے 5 ارب روپے سے زائد فنڈز کی منظوری دیدی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت وزارتِ خزانہ میں منعقدہ کمیٹی کے اجلاس میں اہم مالی و ترقیاتی امور کی منظوری دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سونے کی تجارت پر پابندی ختم کردی
اجلاس میں وزارتِ قومی صحت کی جانب سے پیش کردہ سمری کی منظوری دیتے ہوئے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن یعنی ایف ڈی آئی کے لیے 2.8 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ جاری کرنے کی منظوری دی گئی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایف ڈی آئی ملک کا ایک اہم قومی پروگرام ہے، جس کے تحت 80 لاکھ سے زائد بچوں کو مختلف قابلِ تدارک بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین دی جاتی ہے۔
ECC Approves Key TSGs; Endorses Betel Nut Import Reforms
The Economic Coordination Committee (ECC) of the Cabinet met today at the Finance Division under the chairmanship of the Federal Minister for Finance and Revenue, Senator Muhammad Aurangzeb.
The ECC approved a summary… pic.twitter.com/9f3yPcy622
— Ministry of Finance, Government of Pakistan (@Financegovpk) April 8, 2026
یہ گرانٹ ویکسین، سرنجز اور کولڈ چین آلات کی خریداری کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے صوبوں کے ساتھ مل کر استعمال کی جائے گی۔
ای سی سی نے وزارتِ تجارت کی جانب سے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترمیم کی سمری بھی منظور کرلی، جس کے تحت چھالیہ کی درآمد کے لیے نیا فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ریکوڈک منصوبے کے معاہدوں کی منظوری دیدی
اس میں پری شپمنٹ انسپیکشن اور سخت ریگولیٹری نگرانی شامل ہے، جس کا مقصد فوڈ سیفٹی اور فائیٹو سینیٹری معیارات پر عملدرآمد یقینی بنانا، تجارتی تنازعات میں کمی لانا اور بین الاقوامی بہترین طریقہ کار کے مطابق تجارت کو فروغ دینا ہے۔
اجلاس میں وزارتِ دفاع کے تحت ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس کے لیے 30 کروڑ 60 لاکھ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی، جو وزیر اعظم کے امدادی پیکج، ایل پی آر کی ادائیگی اور سفری و یومیہ الاؤنسز جیسے اخراجات کے لیے استعمال ہوگی۔

اسی طرح، وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے 2 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی منظوری بھی دی گئی۔
یہ فنڈز پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام یعنی پی ایس پی ڈی کے اندر رد و بدل سے حاصل کیے گئے ہیں اور انہیں ترجیحی منصوبوں، بشمول دانش اسکول کری، اسلام آباد کے قیام اور نیوٹیک کے تحت وزیر اعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام پر خرچ کیا جائے گا، تاکہ نوجوانوں کی ملازمت کے مواقع بہتر بنائے جا سکیں۔
ای سی سی نے فنڈز کے مؤثر استعمال کے لیے سخت نگرانی اور شفاف نظام وضع کرنے پر زور دیا، جس میں واضح کارکردگی کے معیار اور رپورٹنگ میکنزم شامل ہوں گے تاکہ وسائل کا درست اور مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔













