وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے مذاکرات اسی وقت دوبارہ شروع ہوں گے جب خیبرپختونخوا حکومت سے دہشتگردی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا ہوگا، کسی سمجھوتے کے بغیر دوبارہ مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی مذاکرات کی آفر اب بھی موجود، پی ٹی آئی پہلے لانگ مارچ ختم کرے، رانا ثنااللہ
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا مولانا فضل الرحمان کے مذاکراتی عمل میں شامل ہونے سے کوئی بڑا بریک تھرو ہوسکتا ہے؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ بڑے بریک تھرو کی امید تو نہیں ہے، دونوں فریقین کے درمیان کوئی بڑا معاملہ بھی نہیں ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا نہیں کرپارہی، صوبائی حکومت کا کردار اس جنگ کو جیتنے یا آپریشن کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا حکومت آمادگی دکھا دے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہے تو یہ معاملہ اسی وقت سلجھ جائے گا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ کی کامیابی کے لیے صوبائی حکومت کا کردار بڑا ضروری ہے، اگر صوبائی حکومت اس جنگ میں کردار ادا کرے گی تو قائم رہے گی اور اگر وہ کردار ادا نہیں کرتی تو پھر دہشتگردی کے خلاف آپریشن کی کامیابی کے لیے وفاقی حکومت کو قدم اٹھانا پڑے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ضرورت سے زیادہ اعتماد نقصان دیتا ہے، 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کو 2 سال پیچھے دھکیل دے گا، رانا ثنااللہ
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کسی کی ذات کا مسئلہ نہیں بلکہ ملک کا مسئلہ ہے۔ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ دہشتگردوں سے بات کی جائے، کیوں ان سے بات کی جائے؟ کیا ان لوگوں کو پتا ہے کہ ان کے مطالبات کیا ہیں؟ ان دہشتگردوں کا تو مطالبہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کا بڑا حصہ ان کا ہے، یہ انہیں دے دیا جائے، پاکستان توڑ دیا جائے، تو پھر کس طرح ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کی جاسکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا بیرسٹر گوہر، اسد قیصر اور عامر ڈوگر کے ساتھ رابطہ ہے، ان کا اپنا مؤقف ہے، ہمارا اپنا مؤقف ہے لیکن رابطے تو رہتے ہیں۔











