علاقائی اور عالمی سطح پر جاری جیو پولیٹیکل غیر یقینی اور اقتصادی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت نے رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے 3 ماہ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس اور وزارت تجارت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جاری مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2026) کے دوران ملک کی ٹیکسٹائل برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 6.51 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد ٹیکسٹائل برآمدات کا کل حجم 5 ارب 14 کروڑ ڈالر (5.14 ارب ڈالر) تک پہنچ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026 کا مہینہ ٹیکسٹائل شعبے کی برآمدات میں مسلسل پیشرفت کا حامل رہا جہاں سالانہ اور ماہانہ دونوں بنیادوں پر مثبت رجحان دیکھا گیا۔
ستمبر کی کل برآمدات
ستمبر 2026 میں ٹیکسٹائل کی برآمدات 1.799 ارب ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ برس (ستمبر 2025) میں یہ حجم 1.573 ارب ڈالر تھا جو تقریباً 8.63 فیصد سالانہ اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
اگست 2026 (1.60 ارب ڈالر) کے مقابلے میں ستمبر کے دوران برآمدات میں 12.4 فیصد سے زائد ماہانہ بہتری دیکھی گئی۔
سہ ماہی اعداد و شمار اور تقابلی جائزہ
مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال (جولائی تا ستمبر 2026) برآمدات 5 ارب 14 کروڑ ڈالر کی رہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر 2025) 4 ارب 83 کروڑ ڈالر تک تھی۔
معاشی ماہر سلمان نقوی کا کہنا ہے کہ ویلیو ایڈڈ سیکٹر (ریڈی میڈ گارمنٹس، نٹ ویئر اور بستر و تولیا کی برآمدات) نے مجموعی نمو میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے جن کی عالمی منڈیوں بالخصوص یورپ اور امریکہ میں طلب برقرار رہی۔
تاجر برادری کا مؤقف
آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) کے مطابق خطے میں معاشی اور سیاسی غیر یقینی کی فضا کے باوجود برآمدات میں یہ اضافہ پاکستانی برآمد کنندگان کی لچک اور مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔
معاشی ماہر جنید خان نے نشاندہی کی ہے کہ اگر حکومت صنعتی شعبے کے لیے توانائی (بجلی و گیس) کے نرخوں میں مزید بہتری لائے، ڈیوٹی ڈرا بیک اور سیلز ٹیکس کے ریفنڈز بروقت جاری کرے اور ایکسپورٹ فنانسنگ اسکیموں کو مزید فعال بنائے تو رواں سال ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافی 3 ارب ڈالر کا اضافہ بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
معاشی اہمیت
معاشی ماہر شہریار بٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی قومی برآمدات میں ٹیکسٹائل کا حصہ 60 فیصد کے قریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ تجارتی خسارے پر قابو پانے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں استحکام لانے کے لیے ٹیکسٹائل برآمدات میں مسلسل اضافہ ملکی معیشت کے لیے انتہائی خوش آئند ہے۔











