امریکا نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر سخت معاشی پابندیاں عائد کرتے ہوئے اس کی تمام کارروائیوں کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ شدید ترین پیش رفت ایک سابق آئی سی سی جج کو نوبل امن انعام ملنے کے چند ہی گھنٹوں بعد سامنے آئی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کو اعلان کیا کہ واشنگٹن اس عدالت کے ساتھ تمام تر مالی و تجارتی لین دین پر پابندی عائد کر رہا ہے، جسے انہوں نے ایک ’خودسر عدالت‘ قرار دیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے دی ہیگ میں قائم اس عالمی عدالت کے خلاف جاری طویل مہم میں یہ سب سے شدید ترین اقدام ہے۔
مارکو روبیو نے اپنے ایک باضابطہ بیان میں کہا کہ ’یا تو آئی سی سی اپنی دھمکیاں بند کرے، یا پھر ہم آئی سی سی کو ختم کر دیں گے۔‘
یہ بھی پڑھیں:عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو غزہ میں انسانی بحران کا ذمہ دار قرار دے دیا
انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ عالمی ادارہ امریکی خودمختاری کی قیمت پر اپنے اختیارات اور طاقت میں مسلسل اضافہ کرنا چاہتا ہے۔
نوبل امن انعام اور امریکی مؤقف
امریکی حکومت کی جانب سے یہ اقدام بالکل اسی دن سامنے آیا جب نارویجن نوبل کمیٹی نے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی 85 سالہ ممتاز قانون دان نوی پلئی کو نوبل امن انعام سے نوازا۔
نوی پلئی روانڈا نسل کشی ٹربیونل کی سربراہ، آئی سی سی کی جج اور بعد میں اقوام متحدہ کے اس کمیشن کی سربراہی کر چکی ہیں جس نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات عائد کیے تھے۔
Today, the Trump Administration is sanctioning the ICC.
This action should encourage our Allies within the Court to work for solutions to end this threat to U.S. sovereignty forever. https://t.co/D86dCqLUaZ
— Secretary Marco Rubio (@SecRubio) October 9, 2026
نوی پلئی نے انعام ملنے کے بعد عدالت پر بڑھتے ہوئے سیاسی حملوں پر تشویش ظاہر کی تھی، تاہم مارکو روبیو کے بیان میں نوی پلئی یا نوبل انعام کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق یہ پابندیاں امریکی سیکیورٹی اہلکاروں اور منتخب عہدیداروں کو اس عدالت کی جانب سے ممکنہ مقدمات سے بچانے کے لیے ضروری تھیں، جس کا امریکا کبھی رکن نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کبھی بھی آئی سی سی کو امریکی شہریوں پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے 1 سال سے زیادہ عرصے تک عدالت کے سامنے حسنِ نیت کے اقدامات رکھے اور اس امید پر فیصلے کو روکے رکھا کہ آئی سی سی یا اس کے رکن ممالک اپنے رویے میں تبدیلی لائیں گے، مگر امریکی خدشات کو دور کرنے کے لیے کوئی ’معنی خیز قدم‘ نہیں اٹھایا گیا۔
اتحادیوں کو انتباہ اور سابقہ اقدامات
مارکو روبیو نے ان امریکی اتحادیوں کو بھی واضح انتباہ جاری کیا جو آئی سی سی کے رکن ہیں اور اپنے دفاع کے لیے امریکی فوج پر انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی اس ادارے کو لگام دیں، ورنہ واشنگٹن اس عدالت کو ’اینٹ سے اینٹ بجا کر‘ ختم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گا۔
اس سے قبل بھی ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا اور اسرائیل (جو کہ آئی سی سی کا رکن نہیں ہے) کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر اور متعدد ججوں پر انفرادی پابندیاں عاید کی تھیں۔ گزشتہ ماہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئی سی سی کے تمام 125 رکن ممالک سے اس ادارے سے الگ ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے ’بے قابو‘ اور ’خودسر ادارہ‘ قرار دیا تھا۔
عالمی عدالتِ انصاف کا سخت ردعمل
دوسری جانب بین الاقوامی فوجداری عدالت نے امریکی پابندیوں کو بین الاقوامی قانون پر براہِ راست حملہ قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں رد کر دیا اور اپنے ردعمل میں خبردار کیا کہ ’تاریخ اس لمحے کا فیصلہ کرے گی۔‘
مزید پڑھیں:پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں موسمیاتی تبدیلی پر کیا دلائل دیے؟
عدالت نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ پابندیاں قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں پر شدید ضرب ہیں، جو اس بنیادی اصول کو نشانہ بناتی ہیں کہ کوئی بھی شخص یا ریاست قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
آئی سی سی نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کا مقصد عملے کو ڈرانا دھمکانا اور سرگرمیوں میں خلل ڈالنا ہے، لیکن عدالت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
The #ICC strongly rejects US sanctions against the institution ⤵️ https://t.co/cQZ5JLMJYx
— Int’l Criminal Court (@IntlCrimCourt) October 9, 2026
آئی سی سی کی صدر ٹوموکو اکانے نے کہا کہ ’عدالت اپنا نفاذِ قانون کا مینڈیٹ مکمل آزادی، غیر جانبداری، اور صرف قانون و ثبوت کی بنیاد پر جاری رکھے گی تاکہ سنگین ترین جرائم کے بے شمار متاثرین کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔‘
عدالت نے اپنے 125 رکن ممالک سے ادارے کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مستقبل اب ان ریاستوں کے ہاتھوں میں ہے جنہوں نے اسے قائم کیا تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’آنے والی نسلیں اور بالخصوص مظالم کا شکار ہونے والے لوگ یہ ضرور پوچھیں گے کہ جب ان کی حفاظت کے لیے بنایا گیا ادارہ زیرِ عتاب آیا تو دنیا نے کیا ردعمل دیا تھا۔‘
واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل بین الاقوامی فوجداری عدالت کے بنیادی معاہدے ’روم اسٹیچیوٹ‘ کے دستخط کنندہ نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں:عالمی عدالت انصاف نے یوکرین کا روس کے خلاف ‘دہشت گردی’ کا مقدمہ مسترد کردیا
آئی سی سی کی جانب سے افغانستان میں امریکی افواج کے مبینہ اقدامات اور غزہ و فلسطین میں اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف تحقیقات کے آغاز کے بعد سے امریکا اور آئی سی سی کے درمیان شدید تنازع جاری ہے۔
عالمی برادری فی الوقت واشنگٹن کے اس انتہائی قدم اور اس کے بین الاقوامی قانون پر پڑنے والے اثرات کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔














