پاکستان کی معروف ٹی وی میزبان ندا یاسر نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے بیٹے کو اسکول میں غلطی کرنے پر ایک ہفتے کے لیے ٹیبلٹ سے محروم کر دیا گیا جس کے بعد اس کی شخصیت میں مثبت تبدیلی دیکھنے کو ملی۔
حال ہی میں پروگرام کے دوران بچوں کی تربیت کے بدلتے ہوئے طریقوں پر گفتگو کرتے ہوئے ندا یاسر نے بتایا کہ وقت کے ساتھ اساتذہ کی جانب سے بچوں کو سزا دینے کے انداز میں بھی نمایاں تبدیلی آئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے بیٹے نے دو مختلف پرنسپلز کے زیرِ نگرانی تعلیم حاصل کی جن میں سے ایک کی عمر تقریباً 60 سال تھی جبکہ دوسرے کی عمر 30 برس کے لگ بھگ تھی۔ دونوں پرنسپلز کے سزا دینے کے طریقوں میں فرق دیکھ کر انہیں حیرت ہوئی۔
ندا یاسر کے مطابق حال ہی میں ان کے بیٹے کے پرنسپل نے اس کا ٹیبلٹ ایک ہفتے کے لیے ضبط کر لیا۔ اس دوران بچے کو نہ تو جسمانی سزا دی گئی اور نہ ہی دوسرے طلبہ کے سامنے اس کی تذلیل کی گئی بلکہ سزا کو نجی معاملہ رکھا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’ہر کام کے لیے شوہر سے اجازت لینی پڑتی ہے‘، ندا یاسر کا انکشاف
میزبان نے بتایا کہ اس طریقۂ سزا کا مثبت اثر ہوا اور ان کے بیٹے نے اپنی غلطی سے سبق سیکھ لیا۔ ایک ہفتے بعد ٹیبلٹ واپس ملنے پر بچے نے خود پرنسپل کو یقین دلایا کہ وہ اپنی غلطی سمجھ چکا ہے اور آئندہ اسے نہیں دہرائے گا۔
ندا یاسر نے مزید بتایا کہ ٹیبلٹ اور دیگر گیجٹس سے دور رہنے کے دوران ان کے بیٹے نے اپنے کمرے کی صفائی کی، اسے منظم کیا اور اس کی تزئین و آرائش بھی خود کی۔
یہ بھی پڑھیں: ’دھنیا فریج میں اگتا رہتا ہے؟‘، ندا یاسر کے بیان پر صارفین کی ٹرولنگ
ان کے مطابق گیجٹس سے دوری کے دوران انہوں نے اپنے بیٹے کی شخصیت کا ایک نیا پہلو دیکھا، جس سے انہیں اندازہ ہوا کہ بچوں کی اصلاح کے لیے مار پیٹ یا سب کے سامنے شرمندہ کرنے کے بجائے ایسا طریقہ بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جو انہیں اپنی غلطی کا احساس دلائے اور بہتر رویہ اپنانے کی ترغیب دے۔














