کیا جنریشن زی کلیکٹرز آرٹ پر معمر خریداروں سے زیادہ خرچ کرتے ہیں؟

جمعہ 9 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آرٹ بازل اور سوئس بینک یو بی ایس کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امیر جنریشن زی کلیکٹرز کسی بھی دوسری نسل کے خریداروں کے مقابلے میں فائن آرٹ پر کہیں زیادہ خرچ کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیوبا کے سگار اور ان کے بیش قیمت منقش ڈبے دنیا بھر میں مقبول کیوں؟

10  بڑی مارکیٹوں (مختلف ممالک) کے 3,100 امیر خریداروں کے سروے سے پتا چلا ہے کہ جنریشن زی سے تعلق رکھنے والے افراد جو سب سے کم عمر بالغ نسل ہے نے سنہ 2025 اور اس سال کے پہلے نصف کے دوران پرانی نسلوں کے مقابلے میں آرٹ ورکس پر دگنے سے زیادہ خرچ کیا۔

اس مطالعے میں جس میں جنریشن زی کو 20 سے 29 سال کی عمر کے افراد کے طور پر بیان کیا گیا ہے دوسرے سب سے زیادہ خرچ کرنے والے 62 سے 80 سال کی عمر کے بے بی بومرز تھے۔

ملینیلز (30 سے 45 سال کی عمر) اس کے بعد تھے جبکہ امیر جنریشن ایکس کے جواب دہندگان (46 سے 61 سال کی عمر) آرٹ پر خرچ کرنے میں سب سے زیادہ کفایت شعار تھے۔

اوسطاً سروے میں شامل انفرادی جنریشن زی کلیکٹرز نے گزشتہ سال فائن آرٹ پر 347,000 ڈالر خرچ کیے جبکہ ان کے جنریشن ایکس ہم منصبوں میں یہ رقم صرف 79,000 ڈالر تھی۔

جنریشن زی کے تقریباً 40 فیصد جواب دہندگان نے خاندان کے اثر و رسوخ کو کلیکشن میں آنے کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔

مزید پڑھیے: اسکریپ سے مجسمے: نوجوان کا اپنی مثال آپ آرٹ ورک

نوجوان کلیکٹرز روایتی زمروں جیسے پینٹنگ اور مجسمہ سازی کو ترجیح دیتے رہتے ہیں یو بی ایس گلوبل ویلتھ مینجمنٹ کے چیف اکانومسٹ پال ڈونوون نے رپورٹ میں کہا۔

ڈونوون نے کہا کہ کچھ جمالیاتی ترجیحات نسلوں میں اس سے زیادہ مستقل رہتی ہیں جتنا کہ اکثر سمجھا جاتا ہے۔

سروے میں یہ بھی پایا گیا کہ تقریباً نصف جواب دہندگان نے ماہرین یا کلیکٹرز کی جانب سے سراہی جانے والی چیز کے مالک ہونے پر آرٹ ورک کی انفرادیت اور نایابیت کو ترجیح دی۔

جواب دہندگان ہائی نیٹ ورتھ افراد تھے جنہیں سروے نے ایسے لوگوں کے طور پر بیان کیا جن کی مجموعی مالیت، ریئل اسٹیٹ اور نجی کاروباری اثاثوں کو چھوڑ کر سنہ 2026 میں 10 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔

مزید پڑھیں: ڈھائی ہزار سال پرانی ’آئس ممی‘ کا ٹیٹو سنگھار، ماہر آرٹسٹ بھی ایسی تخلیق سے قاصر

رپورٹ میں خریداری کی تحقیق کے لیے اے آئی ٹولز کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بھی روشنی ڈالی گئی کیونکہ انہیں استعمال کرنے والے کلیکٹرز کی تعداد 2024 میں 4 فیصد سے بڑھ کر اب 22 فیصد ہو گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp