صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کا اجلاس آج صبح ساڑھے 9 بجے طلب کرلیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی منظوری دیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اس معاملے پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے توثیق حاصل کرنے کے لیے اجلاس طلب کیے گئے ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کے نفاذ کی صورت میں 10 روز کے اندر قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظوری حاصل کرنا لازمی ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی باتیں، کیا صوبائی حکومت کا خاتمہ ہوجائے گا؟
اس سلسلے میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایوان صدر میں ملاقات بھی ہوئی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ نے وزیراعظم کی معاونت کی۔
ملاقات کے دوران صدر مملکت کی معاونت سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر، سینیٹر سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے کی۔
ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس منگل 13 اکتوبر کو بلائے جائیں گے۔
قبل ازیں ذرائع نے بتایا تھا کہ ایوان صدر میں خیبر پختونخوا کی صورت حال پر ہونے والے اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے صوبے میں امن و امان اور سیکیورٹی کی صورت حال سے متعلق بھجوائی گئی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا۔
مزید پڑھیں: صدر مملکت آصف زرداری کی زیرصدارت اہم اجلاس، خیبرپختونخوا سے متعلق بڑے فیصلے متوقع
دوسری جانب وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان کی بھی ملاقات ہوئی ہے، جس میں اہم قومی و سیاسی امور پر مشاورت کی گئی۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد کی جانب مارچ کررہے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ کسی کو بھی وفاقی دارالحکومت پر چڑھائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔














