انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ اعجاز کو امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے جعلی کاغذات فراہم کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔ لائبہ کی مبینہ خودکشی کے معاملے میں آن لائن فراڈ اور خواتین کو بلیک میل کرنے کے الزامات کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کو اسلام آباد کے سیکٹر ایچ 13 سے گرفتار کیا گیا، جہاں وہ مبینہ طور پر کرائے کے کمرے میں چھپ کر رہ رہا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل فون سے آن لائن فراڈ اور خواتین کو بلیک میل کرنے کے شواہد بھی ملے ہیں۔ ملزم ماضی میں کوئٹہ کے محکمہ انسدادِ بدعنوانی میں کام کر چکا تھا، جہاں سے اسے معطل کیا گیا، جبکہ وہ اسلام آباد کی ایک کمپنی سے بھی وابستہ رہا ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اسلام آباد میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کی خود کشی کا نوٹس، وزیرِ اعظم نے کہا کہ نوجوان طالبہ کی خود کشی انتہائی افسوس ناک واقعہ ہے.
وزیراعظم نے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو مرحومہ کے ساتھ فراڈ کرنے والے ملزم کو فوری طور… pic.twitter.com/qqzgkxbClA
— Prime Minister's Office (@PakPMO) October 10, 2026
میڈیا رپورٹ کے مطابق لائبہ اعجاز کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 میں سڑک کنارے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ پولیس کے مطابق امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے ایک ایجنٹ کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات جعلی ثابت ہونے کے بعد طالبہ شدید پریشانی کا شکار تھیں۔ پولیس موت کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے۔
لائبہ کے اہل خانہ کے مطابق انہوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی سے بی ایس کی ڈگری گولڈ میڈل کے ساتھ مکمل کی تھی اور بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ خاندان کا کہنا ہے کہ امیگریشن کنسلٹنٹ نے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کے لیے 70 لاکھ روپے طلب کیے تھے۔ لائبہ کے والد نے، جو موٹر سائیکل پر دودھ فروخت کرتے ہیں، اپنا پلاٹ فروخت کرکے ایجنٹ کو 21 لاکھ روپے نقد ادا کیے، جبکہ باقی رقم کا انتظام کرنے کے لیے لائبہ کی والدہ کے زیورات بینک میں جمع کرائے گئے۔
خاندان کے مطابق جب لائبہ نے داخلے کی دستاویزات کی تصدیق کرائی تو وہ جعلی نکلیں۔ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر شہزاد ندیم بخاری کے مطابق ابتدائی انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملزم نے لائبہ سے بیرونِ ملک داخلہ دلوانے کے نام پر مبینہ طور پر 72 لاکھ روپے، جبکہ ان کے بھائی سے ملازمت دلوانے کے وعدے پر 5 لاکھ روپے لیے۔ حکام کے مطابق ملزم خود کو سپریم کورٹ کا ملازم یا سرکاری ادارے کا افسر ظاہر کرتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:70 لاکھ روپے کا فراڈ، امریکی یونیورسٹی میں داخلے کا خواب پورا نہ ہونے پر طالبہ کی موت معمہ بن گئی
وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل اور چیف کمشنر کو ملزم کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے مطابق وزارت داخلہ نے بھی ایف آئی اے کو فوری کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی انکوائری کے بعد مقدمہ درج کیا جائے گا اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔














