پیرس کی عدالت نے بچوں کے جنسی استحصال اور تشدد پر مبنی ویڈیوز بنوانے کے عالمی آن لائن نیٹ ورک میں ملوث بھارتی شہری روہن رانے کو 20 سال قید کی سزا سنا دی ہے، جو اس کے خلاف عائد الزامات میں زیادہ سے زیادہ ممکنہ سزا ہے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق 29 سالہ روہن رانے کو جمعے کے روز جنسی بھتہ خوری اور ایک کم عمر بچے پر تشدد کے جرائم میں مجرم قرار دیا گیا۔ وہ ’سی وی ایل ٹی‘ نامی گروپ کے اہم رہنماؤں میں شامل تھا، جو امریکا، برطانیہ اور کینیڈا میں کمزور اور کم عمر بچوں کو آن لائن پلیٹ فارم ڈسکورڈ کے ذریعے نشانہ بناتا تھا۔
A 29-year-old Indian man was sentenced to 20 years in prison in a Paris trial over his alleged involvement in an international criminal network that targeted vulnerable children in the U.S., Britain and Canada and coerced them into producing violent and sexual videos.#CrimeNews… pic.twitter.com/SNKNcWSz3i
— The New Indian Express (@NewIndianXpress) October 10, 2026
عدالتی دستاویزات کے مطابق گروپ کے ارکان بچوں کو دباؤ کے ذریعے تشدد اور جنسی نوعیت کی ویڈیوز بنانے پر مجبور کرتے تھے۔ امریکی حکام کی جانب سے اطلاع ملنے کے بعد فرانسیسی پولیس نے 2021 میں جنوبی فرانس کے شہر اینٹیب میں روہن رانے کو گرفتار کیا تھا۔
ابتدا میں رانے نے معاملے کو غلط فہمی قرار دیا، تاہم عدالتی دستاویزات کے مطابق بعد میں اس نے ڈسکورڈ گروپ کا منتظم ہونے کا اعتراف کیا اور کہا کہ اسے قتل، خود کو نقصان پہنچانے اور لاشوں پر مشتمل پُرتشدد ویڈیوز دیکھنے میں دلچسپی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 15 لاکھ بچے آن لائن جنسی استحصال کا شکار، یونیسف رپورٹ
عدالت نے بچوں کے استحصال سے متعلق حساس نوعیت کے مقدمے کی سماعت بند کمرے میں کرنے کا حکم دیا تھا۔ امریکی متاثرین کے 5 نمائندہ بچوں کے وکیل ہپولیت مارکیتی نے کہا کہ اس واقعے کے متاثرین پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں اور ان کی زندگیاں بکھر گئی ہیں۔ اس گروپ کے کم از کم 3 دیگر ارکان کو امریکا میں بھی گرفتار کیا جا چکا ہے۔










