مشرقی افریقہ کے ملک جبوتی کے ساحل کے قریب خلیج عدن میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے کم از کم 139 افراد ہلاک ہو گئے، جن میں 15 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 84 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت یعنی آئی او ایم نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ حادثے کے بعد امدادی اور تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، آئی او ایم نے اتوار کو جاری بیان میں زندہ بچ جانے والے افراد کے حوالے سے بتایا کہ حادثہ جمعرات کی رات سے جمعہ کی صبح طلوع آفتاب سے قبل کے درمیانی وقت میں جبوتی کے مشرقی ساحل کے قریب علاقے گوہیرے کے نزدیک پیش آیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کشتی جبوتی سے یمن جا رہی تھی اور اس میں 300 سے زائد افراد سوار تھے، حادثے میں 80 سے زیادہ افراد زندہ بچنے میں کامیاب ہوئے، جن کا تعلق ایتھوپیا سے ہے، جبوتی کے حکام کی جانب سے تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
At least 139 migrants have died and 84 others remain missing after a boat capsized off the coast of Djibouti, the International Organization for Migration (IOM) said on October 11.#Djiboutihttps://t.co/IN02MsxFQS pic.twitter.com/IfnvmRcC3p
— CCTV+ (@CCTV_Plus) October 12, 2026
جبوتی میں آئی او ایم کے مشن کے سربراہ الیگزینڈر کوئساک نے کہا کہ ادارے کی ٹیمیں مقامی حکام کے ساتھ مل کر متاثرین کو ہنگامی امداد فراہم کر رہی ہیں، انہوں نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تباہ کن سانحہ ہے۔
کوئساک نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ہلاکتوں کی سرکاری تعداد میں فی الحال صرف وہ افراد شامل ہیں جنہیں جبوتی کے حکام نے دفن کیا ہے۔
مزید پڑھیں: کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد میں ہوشربا اضافہ
’بعض تارکین وطن کو ان کے ساتھیوں نے بھی دفن کیا، تاہم ان لاشوں کی سرکاری تصدیق ہونے کے بعد ہی انہیں مجموعی تعداد میں شامل کیا جا سکے گا۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ اس خطرناک راستے پر سفر کرنے والے تارکین وطن کو درپیش سنگین خطرات کی یاد دہانی ہے، جہاں لوگ روزگار اور بہتر معاشی مواقع کی تلاش میں اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے ہیں۔
خطرناک سمندری راستہ
آبنائے باب المندب جبوتی اور یمن کے درمیان واقع ہے اور اپنے تنگ ترین مقام پر اس کی چوڑائی تقریباً 20 کلومیٹر ہے، افریقی خطے ہارن آف افریقہ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں تارکین وطن خلیجی ممالک میں روزگار اور تحفظ کی تلاش میں اس خطرناک سمندری راستے سے سفر کرتے ہیں۔
خطے میں عدم استحکام، ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ اور یمن میں حکومتی فورسز اور حوثی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے باوجود تارکین وطن کی آمدورفت جاری ہے۔
مزید پڑھیں: ترکیہ کے مغربی ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے 17 افراد ہلاک
آئی او ایم کے مطابق، 10 ستمبر سے اب تک ایتھوپیا سے جبوتی آنے والے افراد کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال 5 لاکھ سے زیادہ افراد نے اس راستے سے یمن جانے کی کوشش کی، جبکہ کم از کم 900 افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے۔
جبوتی خود بھی تارکین وطن کے لیے ایک اہم گزرگاہ ہے، جہاں سے لوگ یمن اور دیگر مقامات کا رخ کرتے ہیں، دوسری جانب یمن میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے باعث ہزاروں افراد وہاں سے جان بچانے کے لیے جبوتی پہنچ رہے ہیں۔














