ڈیجیٹل خوابوں پر ٹیکس کا سایہ: ایف بی آر کے نئے فارمولے کے بعد کانٹینٹ کریئیٹرز کیا سوچ رہے ہیں؟

پیر 12 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

رات کے آخری پہر جب پورا شہر سو رہا ہوتا ہے، تب ایک نچلے یا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا نوجوان اپنے چھوٹے سے کمرے میں کیمرے کی روشنی جلا کر، گھنٹوں کی محنت سے اپنا نیا ویڈیو کانٹینٹ ایڈٹ کر رہا ہوتا ہے۔ یہ صرف ایک ویڈیو نہیں بلکہ اس کے بہتر مستقبل، اپنے خاندان کی کفالت اور ایک آزاد روزگار کی امید کا دیا ہوتا ہے۔ برائے نام وسائل اور دن رات کی انتھک محنت کے بعد حاصل ہونے والی اس معمولی آمدن پر جب ایک نیا ‘ٹیکس فارمولا’ مسلط کر دیا جائے، تو یہ خواب چور چور ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل سائٹس پر کام کرنے والے کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے ایک نیا ٹیکس فارمولا متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت اب یوٹیوب اور فیس بک پر فعال ہر چھوٹے بڑے کریئیٹر کو نیا ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ فارمولا ان نوجوانوں کے حقوق کی ترجمانی کرتا ہے جن کا پورا گھر اسی ایک مونیٹائزڈ اکاؤنٹ پر چل رہا ہے؟

ایف بی آر کا نیا طریقہ کار، ایک پیچیدہ الجھن

نئے ٹیکس فارمولے کے تحت ایف بی آر نے فکسڈ (مقررہ) ٹیکس لگانے کے بجائے ‘پر تھاؤزنڈ ویوز’ (فی ہزار ویوز) سے جنریٹ ہونے والے ریونیو پر 5 فیصد کٹوتی کا طریقہ اپنایا ہے۔ کانٹینٹ کریئیٹر ساجد علی کے مطابق یہ نظام انتہائی پیچیدہ ہے۔ ‘اگر کسی کریئیٹر کا کل ریونیو فکس ہو اور اس پر ٹیکس لیا جائے تو بات سمجھ آتی ہے۔ لیکن ویوز کی بنیاد پر آر پی ایم اور نِش کو دیکھ کر 5 فیصد ٹیکس کاٹنا ایک ایسی الجھن ہے جس کو عام یا نیا کریئیٹر آسانی سے سمجھ ہی نہیں سکتا۔

چھوٹے کریئیٹرز کے لیے بقا کی جنگ

ڈیجیٹل میڈیا پر ایک واضح تقسیم موجود ہے۔ ایک طرف وہ بڑے اور نامور کریئیٹرز ہیں جن کی آمدن کروڑوں میں ہے، جنہیں ملٹی نیشنل برانڈز سے پی آر، اسپانسرشپ اور انفلوئنسر مارکیٹنگ کے ذریعے لاکھوں روپے مل جاتے ہیں؛ ان کے لیے 5 فیصد کی کٹوتی کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

لیکن دوسری طرف وہ چھوٹے کریئیٹرز ہیں جن کا واحد سہارا صرف اور صرف گوگل ایڈسینس کی کمائی ہے۔ پہلے ہی یوٹیوب خود اپنی کمائی میں سے 10 فیصد کاٹتا ہے۔ اس کے بعد جب رقم پاکستان آتی ہے تو مختلف بینک ریمیٹینس چارجز کے نام پر ایک ہزار سے لے کر 10ہزار روپے تک کٹوتی کرلیتے ہیں) جس میں یو بی ایل کو فی الوقت سب سے کم اور فاسٹ سروس فراہم کرنے والا بینک سمجھا جا رہا ہے) اور اب اس پر ایف بی آر کی کٹوتی بھی شامل ہو گئی ہے۔

اس صورت حال پر ساجد علی سوال اٹھاتے ہیں کہ ‘اگر ایک چھوٹا کریئیٹر تمام تر کٹوتیوں اور بینک چارجز کے بعد ایف بی آر کو بھی حصہ دے دے، تو آخر وہ اپنے اور اپنے خاندان کے لیے کیا بچائے گا؟

کیا نئے آنے والوں کا حوصلہ ٹوٹ جائے گا؟

آج کا دور ڈیجیٹل دور ہے اور دنیا بھر میں نوجوانوں کو اس انڈسٹری میں آنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ پاکستان میں بھی ہزاروں نوجوان روزگار کی عدم دستیابی کے باعث ڈیجیٹل میڈیا کا رخ کر رہے ہیں۔ لیکن جب ایک نیا کریئیٹر یہ سنتا ہے کہ اس کی ابتدائی اور قلیل آمدن پر بھی غیر متوقع ٹیکس لاگو ہو چکا ہے، تو اس کا حوصلہ پست ہونے لگتا ہے اور ملک میں ڈیجیٹل گروتھ رکنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔

امید کی کرن، محنت کا سفر رکنا نہیں چاہیے

تمام تر تحفظات کے باوجود، کریئیٹرز کا ماننا ہے کہ ٹیکس دینا ایک ریاستی فریضہ ہے، تاہم حکومت کو چاہیے کہ وہ چھوٹے کریئیٹرز کو رعایت دے اور ایک واضح و آسان طریقہ کار اپنائے۔

تمام تر مشکلات کے باوجود کریئیٹرز کے لیے یہی پیغام ہے کہ وہ اپنے خوابوں سے دستبردار نہ ہوں۔ اگر ریاست نے یہ ٹیکس نافذ کر ہی دیا ہے، تو اب کریئیٹرز کو چاہیے کہ وہ اپنے کانٹینٹ کا معیار بہتر سے بہترین بنائیں، اپنی ویورشپ اور ڈیوریشن میں اضافہ کریں تاکہ ان کی مجموعی آمدن اتنی بڑھ جائے کہ کٹوتی کے باوجود ان کا چولہا جلتا رہے اور ملک کی معاشی انڈسٹری بھی آگے بڑھتی رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp