پاکستان نے افغان طالبان رجیم کے ترجمان کی جانب سے دیے گئے بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے افغانستان کی سرزمین سے جاری دہشتگردانہ دھمکیوں اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) کی پناہ گاہوں کے خلاف ٹھوس کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق افغان طالبان رجیم کے ترجمان نے اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف جنم لینے والے دستاویزی بنیادوں پر ثابت شدہ دہشتگردی کے خطرے کو حل کرنے کے بجائے ایک بار پھر محض زبانی جمع خرچ، الزامات اور توجہ ہٹانے والے بیانیے کا سہارا لیا ہے۔
The Afghan Taliban regime’s spokesperson has once again resorted to rhetoric and diversion instead of addressing the well-documented terrorist threat emanating from Afghan territory. Attempts to shift attention towards Pakistan’s internal affairs cannot conceal the regime’s failure to prevent terrorist groups from using Afghanistan to plan and launch attacks against Pakistan.
The UN Security Council’s Analytical Support and Sanctions Monitoring Team, in its Sixteenth Report (S/2025/796), estimated that approximately 6,000 TTP fighters were present in Afghanistan and reported Taliban support to the group. These findings cannot credibly be dismissed as Pakistani propaganda. The regime must address this documented threat through concrete action rather than denial.
The regime’s attempts to lecture others on governance and citizens’ rights also ring hollow in the face of its own record, particularly its continued restrictions on girls’ education and violations of fundamental human rights.
Pakistan remains committed to dialogue, but meaningful progress requires the Afghan Taliban regime to honour its counterterrorism commitments and take verifiable action against terrorist sanctuaries and support networks. Pakistan will take all necessary measures, in accordance with international law, to protect its citizens, defend its sovereignty and safeguard its territorial integrity. The responsibility to end the use of Afghan territory for attacks against Pakistan rests squarely with the regime.
— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) October 12, 2026
دفترخارجہ کے مطابق پاکستان کے داخلی معاملات کی طرف توجہ موڑنے کی یہ تمام تر کوششیں اس سچائی کو قطعی طور پر نہیں چھپا سکتیں کہ افغان رجیم اپنے ملک کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف حملوں اور منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
6000 ٹی ٹی پی جنگجو اور افغان طالبان کی معاونت
پاکستان نے عالمی اداروں کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشنز مانیٹرنگ ٹیم نے اپنی سولہویں رپورٹ (ایس/2025/796) میں اس بات کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے تقریباً 6000 جنگجو موجود ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:طالبان قیادت کے بیانات پر پاکستان کا مؤقف، افغانستان میں دہشتگردی اور حکومتی طرزِ عمل پر سوالات
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق رپورٹ میں افغان طالبان کی جانب سے اس گروپ کو ملنے والی امداد کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ ان بین الاقوامی رپورٹس کے واضح نتائج کو محض ’پاکستانی پروپیگنڈا‘ کہہ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا، بلکہ افغان رجیم کو اس ثابت شدہ خطرے کا انکار کرنے کے بجائے عملی اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے حل نکالنا ہوگا۔
انسانی حقوق، لڑکیوں کی تعلیم اور افغان رجیم کا طرزِ عمل
پاکستانی حکام نے افغان انتظامیہ کی جانب سے دوسروں کو گود لینے یا حکمرانی اور شہریوں کے حقوق پر نصیحتیں کرنے کی کوششوں کو سخت آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ اپنے دورِ حکومت میں لڑکیوں کی تعلیم پر مسلسل سخت پابندیاں عائد کرنے اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر مبنی ریکارڈ کے ہوتے ہوئے افغان رجیم کے یہ خطبات اور نصیحتیں مکمل طور پر کھوکھلی اور بے معنی محسوس ہوتی ہیں۔
مزید پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان اور چین یک زبان، کابل کو کیا اہم پیشکش کی؟
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ مسائل کے حل کے لیے بات چیت اور مذاکرات کا حامی رہا ہے، تاہم کسی بھی معنی خیز پیش رفت کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ افغان طالبان رجیم اپنے انسدادِ دہشتگردی کے معاہدوں پر پورا اترے اور دہشتگردوں کی پناہ گاہوں و سہولت کاروں کے نیٹ ورک کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔
پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ، قومی خودمختاری کے دفاع اور علاقائی سلامتی کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق تمام تر ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی تمام تر ذمہ داری براہ راست افغان طالبان رجیم پر عائد ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا اور طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاک افغان سرحد پر کشیدگی اور کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کے اندر دہشتگردانہ حملوں میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
پاکستان مسلسل دوطرفہ سطح پر اور عالمی فورمز پر یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہے کہ طالبان کی سرپرستی یا چشم پوشی کے باعث ٹی ٹی پی کے شدت پسند افغان سرزمین کو بطورِ محفوظ پناہ گاہ استعمال کر رہے ہیں، جبکہ افغان حکام بارہا ان الزامات سے انحراف کرتے رہے ہیں۔














