خوابوں کی موت: فراڈ اور مایوسی کے سائے میں پاکستان کا نوجوان

منگل 13 اکتوبر 2026
author image

انعم ملک

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کچھ سانحات محض ایک گھر کا چراغ نہیں بجھاتے، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں۔ اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کی المناک موت بھی ایسا ہی ایک واقعہ ہے جس نے پاکستانی معاشرے میں نوجوانوں کے مستقبل، معاشی دباؤ، تعلیمی فراڈ اور ذہنی صحت سے متعلق کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، لائبہ کی لاش اسلام آباد کے سیکٹر جی-10 میں اتوار بازار کے قریب ایک گرین بیلٹ سے ملی۔ ابتدائی اطلاعات میں امریکہ میں تعلیم کے حصول کے لیے ایک ایجنٹ کو مبینہ طور پر رقم دینے اور دستاویزات کے جعلی ہونے کا معاملہ سامنے آیا۔ تاہم، اس واقعے کے تمام پہلوؤں اور مبینہ فراڈ کے الزامات کی حتمی تصدیق متعلقہ اداروں کی تحقیقات سے ہی ممکن ہے۔ اس کے باوجود، یہ سانحہ ہمیں اس بنیادی سوال پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کو ایسے حالات کے حوالے کیوں کر دیا ہے جہاں خواب دیکھنا تو ممکن ہے، مگر ان خوابوں کے ٹوٹنے پر سنبھلنے کے لیے مدد اور تحفظ حاصل کرنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔

پاکستان کے لاکھوں نوجوان بہتر تعلیم، باعزت روزگار اور معاشی استحکام کے خواہش مند ہیں۔ ان کے لیے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنا محض ایک ڈگری حاصل کرنے کا معاملہ نہیں، بلکہ اپنے خاندان کی زندگی بدلنے، والدین کی قربانیوں کا صلہ دینے اور غربت کے دائرے سے نکلنے کی امید بھی ہوتا ہے۔ بہت سے والدین اپنی برسوں کی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، جائیداد فروخت کرتے ہیں اور قرض تک لیتے ہیں تاکہ ان کے بچے بہتر مستقبل حاصل کر سکیں۔ ایسے حالات میں جب کوئی نوجوان کسی تعلیمی مشیر یا ویزا ایجنٹ پر اعتماد کرتا ہے تو وہ صرف رقم ادا نہیں کرتا، بلکہ اپنی اور اپنے خاندان کی امیدیں بھی اس کے ساتھ وابستہ کر لیتا ہے۔ اگر لائبہ کے معاملے میں فراڈ کے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ محض مالی دھوکا دہی نہیں، بلکہ ایک خاندان کے اعتماد، محنت اور مستقبل کو نقصان پہنچانے کا معاملہ بھی ہوگا۔ ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ فراڈ کا شکار ہونا کسی انسان کی اخلاقی ناکامی نہیں۔ دھوکا دینے والا ذمہ دار ہوتا ہے، نہ کہ وہ شخص جو بہتر مستقبل کی امید میں اس پر اعتماد کرتا ہے۔

اس واقعے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم پاکستان کے وسیع تر معاشی اور سماجی حالات پر بھی نظر ڈالیں۔ مہنگائی، روزگار کے محدود مواقع، تعلیم کے بڑھتے اخراجات اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کے لیے شدید دباؤ پیدا کر سکتے ہیں۔ جب تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مناسب روزگار نہ ملے اور معاشی استحکام حاصل کرنا مشکل ہو جائے تو بیرونِ ملک جانا بہت سے نوجوانوں کو واحد قابلِ عمل راستہ محسوس ہونے لگتا ہے۔ بیرونِ ملک تعلیم یا ملازمت حاصل کرنے کی خواہش بذاتِ خود مسئلہ نہیں؛ اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب نوجوانوں کو یہ یقین ہونے لگے کہ پاکستان میں ان کے لیے ترقی کے مواقع محدود ہیں اور ان کے تمام مسائل کا حل صرف کسی دوسرے ملک میں موجود ہے۔ یہ سوچ انہیں ایسے غیر مصدقہ دعووں، غیر حقیقی وعدوں اور جعلی تعلیمی مشیروں کے لیے زیادہ کمزور بنا سکتی ہے جو ان کی مجبوری اور امید کو اپنے مالی فائدے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

خودکشی سے ہونے والی اموات کا مسئلہ صرف پاکستان تک محدود نہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی صحتِ عامہ کے ایک اہم چیلنج کے طور پر سامنے آتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں 2021 کے دوران اندازاً 727,000 افراد خودکشی کے نتیجے میں جان گنوا بیٹھے۔ یہ اعدادوشمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خودکشی کی روک تھام ایک عالمی ترجیح ہونی چاہیے اور اس کے لیے بروقت ذہنی صحت کی سہولیات، سماجی معاونت اور مؤثر حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ خودکشی کے پیچھے عموماً متعدد عوامل کارفرما ہوتے ہیں، جن میں ذہنی صحت کے مسائل، شدید نفسیاتی دباؤ، سماجی تنہائی، مالی مشکلات اور زندگی میں پیش آنے والے تکلیف دہ واقعات شامل ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک واقعے کو صرف معاشی دباؤ، فراڈ یا کسی ایک وجہ سے منسوب کرنا درست نہیں۔ لائبہ کے معاملے میں بھی تمام حقائق کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں، جبکہ اس سانحے سے وسیع تر سماجی مسائل کے بارے میں سبق حاصل کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔

پاکستان میں بیرونِ ملک تعلیم، اسکالرشپس، ویزوں اور ملازمتوں کے نام پر دھوکا دہی کے خدشات والدین اور طلبہ کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں۔ پاکستان کی ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سمیت متعلقہ اداروں کی جانب سے طلبہ کو جعلی تعلیمی دعووں اور غیر معتبر مشیروں سے محتاط رہنے کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم، صرف شہریوں کو احتیاط کا مشورہ دینا کافی نہیں۔ ایک مؤثر نظام وہ ہوگا جہاں تعلیمی مشیروں کی حیثیت کی تصدیق آسان ہو، فیسوں اور معاہدوں میں شفافیت ہو، یونیورسٹیوں سے داخلوں کی براہِ راست تصدیق ممکن ہو اور شکایت کی صورت میں متاثرہ خاندان کو فوری قانونی رہنمائی مل سکے۔ اگر کسی ایجنٹ کی جانب سے دھوکا دہی ثابت ہو تو قانون کے مطابق سخت کارروائی اور جہاں ممکن ہو، متاثرین کو رقم واپس دلانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہییں۔ حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ تعلیمی حکام کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانی چاہیے۔

اس سانحے کا ایک اہم پہلو نوجوانوں کی ذہنی صحت اور خاندانوں کے اندر اعتماد کا فقدان بھی ہے۔ بہت سے نوجوان اپنی مشکلات والدین سے اس خوف کے باعث چھپاتے ہیں کہ انہیں ناکام، غیر ذمہ دار یا ناشکرا سمجھا جائے گا۔ مالی نقصان، تعلیمی ناکامی یا کسی دھوکے کا شکار ہونے کے بعد احساسِ جرم اور شرمندگی پہلے سے موجود پریشانی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور معاشرتی ماحول میں ایسی فضا پیدا کرنے کی ضرورت ہے جہاں نوجوان اپنی مشکلات بلا خوف بیان کر سکیں۔ والدین کو یہ احساس دلانا چاہیے کہ ان کے بچوں کی قدر ان کی ڈگری، آمدنی، بیرونِ ملک رہائش یا مالی کامیابی سے متعین نہیں ہوتی۔ کوئی امتحان، ملازمت، ویزا یا مالی نقصان انسانی زندگی سے زیادہ اہم نہیں۔ اگر کوئی نوجوان شدید مایوسی یا ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو اسے محض حوصلہ رکھنے کا مشورہ دینے کے بجائے اس کی بات سننا، اسے محفوظ ماحول فراہم کرنا اور ضرورت پڑنے پر پیشہ ورانہ مدد تک رسائی دلانا ضروری ہے۔

ریاست اور تعلیمی اداروں کی ذمہ داری بھی محض آگاہی مہمات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ جامعات میں تربیت یافتہ ماہرینِ نفسیات اور مشیروں کی دستیابی، طلبہ کے لیے خفیہ اور قابلِ رسائی مشاورتی سہولیات، مالی بحران سے دوچار نوجوانوں کے لیے معاونت اور فراڈ کا شکار ہونے والے طلبہ کے لیے واضح شکایتی نظام قائم کرنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے مقامی سطح پر باعزت روزگار، فنی تربیت، میرٹ پر مبنی ترقی اور معیاری تعلیم کے مواقع بڑھانے چاہییں تاکہ بیرونِ ملک جانا ان کے لیے واحد امید نہ بنے، بلکہ کئی ممکنہ راستوں میں سے ایک انتخاب ہو۔ حکومت کو خودکشی سے ہونے والی اموات کے اعدادوشمار کی بہتر رجسٹریشن اور باقاعدہ اشاعت پر بھی توجہ دینی چاہیے، کیونکہ قابلِ اعتماد معلومات کے بغیر مؤثر پالیسی سازی اور وسائل کی درست تقسیم مشکل ہو جاتی ہے۔

میڈیا کا کردار بھی اس سلسلے میں نہایت اہم ہے۔ ایسے سانحات کی رپورٹنگ میں سنسنی خیزی، غیر مصدقہ پیغامات اور خودکشی کے طریقۂ کار کی غیر ضروری تفصیلات سے گریز کیا جانا چاہیے۔ اس کے بجائے توجہ حقائق کی تصدیق، ذمہ دار اداروں کے احتساب، فراڈ سے بچاؤ اور ذہنی صحت کے بارے میں آگاہی پر مرکوز ہونی چاہیے۔ ہمیں کسی بھی واقعے کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے تحقیقات کا انتظار کرنا چاہیے، لیکن اس انتظار کو ان سماجی خامیوں پر بات کرنے میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے جو نوجوانوں کو غیر محفوظ حالات سے دوچار کر سکتی ہیں۔

لائبہ اعجاز کی المناک موت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا ہمارا معاشرہ اپنے نوجوانوں کو صرف کامیابی کے لیے تیار کر رہا ہے یا ناکامی اور مشکلات سے نکلنے کا راستہ بھی دکھا رہا ہے؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے صرف ڈگریاں فراہم کر رہے ہیں یا طلبہ کی ذہنی اور جذباتی ضروریات کو بھی سمجھتے ہیں؟ کیا ریاست ایسے نظام کی تشکیل کر رہی ہے جہاں دھوکا دہی کا شکار ہونے والے شہریوں کو فوری انصاف مل سکے؟ اور کیا ہمارے گھر ایسے محفوظ مقامات ہیں جہاں نوجوان اپنی سب سے بڑی غلطی یا مشکل بھی بلا خوف بیان کر سکیں؟ ان سوالات کے جواب محض بیانات سے نہیں، بلکہ عملی اصلاحات، مؤثر نگرانی اور مشترکہ ذمہ داری کے ذریعے دیے جا سکتے ہیں۔

ہمیں ایسا پاکستان بنانے کی ضرورت ہے جہاں نوجوان خواب دیکھنے سے نہ ڈریں، والدین اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر خطرات مول لینے پر مجبور نہ ہوں، تعلیمی فراڈ کرنے والوں کو قانون کے مطابق جواب دہ ٹھہرایا جائے اور ذہنی دباؤ کا شکار افراد کو بروقت مدد حاصل ہو۔ لائبہ کے واقعے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں، اور اگر کسی فرد یا ادارے کی جانب سے جرم ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان خامیوں کو دور کرنے کے لیے بھی سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے جو نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کو استحصال اور مایوسی کے خطرات سے دوچار کرتی ہیں۔

کسی ڈگری، کسی ویزے، کسی ملازمت، کسی مالی نقصان اور کسی ناکامی کی قیمت انسانی زندگی سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ ایک معاشرے کی حقیقی ترقی کا پیمانہ صرف یہ نہیں کہ اس کے نوجوان کتنے بڑے خواب دیکھتے ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ جب ان کے خواب ٹوٹ جائیں تو انہیں دوبارہ کھڑے ہونے کے لیے مدد، انصاف اور امید میسر آتی ہے یا نہیں۔ لائبہ کی یاد کو حقیقی خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ اس سانحے کو محض چند روزہ خبر بننے نہ دیا جائے، بلکہ اسے ایسے عملی اقدامات کا نقطۂ آغاز بنایا جائے جو نوجوانوں کے تحفظ، ذہنی صحت کی بہتری، تعلیمی شفافیت اور انصاف کی فراہمی میں مددگار ثابت ہوں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp