مصنوعی ذہانت کی مدد سے سری کو بہتر بنانے کے بعد ایپل کی اسمارٹ ہوم حکمتِ عملی

منگل 13 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹیکنالوجی کمپنی ایپل منگل کو اسمارٹ ہوم مصنوعات کی نئی سیریز متعارف کرانے کا امکان ہے، جن میں آئی پیڈ جیسی ایک ڈیوائس بھی شامل ہے جسے دیوار پر نصب کیا جا سکے گا یا میز پر رکھا جا سکے گا۔

یہ ڈیوائس مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے بہتر بنائے گئے ورچوئل اسسٹنٹ ’سری‘ کو نمایاں کرے گی۔

ان مصنوعات کے ذریعے صارفین دروازوں کی گھنٹیوں، درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے والے آلات اور اسمارٹ تالوں کو چلانے کے قابل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایپل کی کامیابی کا راز کیا ہے؟ اسٹیو جابز کی ’فرنیچر کہانی‘ نے راز کھول دیا

ایپل گزشتہ ایک دہائی سے اسمارٹ ہوم مارکیٹ میں قدم جمانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم اسے اب تک کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی مصنوعات میں اس کے ہوم پوڈ اسمارٹ اسپیکر اور ایپل ٹی وی ڈیوائسز کے اپ گریڈ شدہ ورژن بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

ایپل ایسے وقت میں یہ مصنوعات متعارف کرانے کی تیاری کر رہی ہے جب اسے روایتی حریفوں، بالخصوص ایمیزون ڈاٹ کام، اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ابھرنے والی نئی کمپنیوں سے مقابلے کا سامنا ہے۔

ایمازون نے اپنے ’ایکو‘ اسپیکرز اور ’رنگ‘ ڈور بیلز پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور گزشتہ ہفتے پریمیم ٹیبلٹس بھی متعارف کرائے، دوسری جانب اوپن اے آئی جیسی نئی اے آئی کمپنیوں کی بھی ہارڈویئر مصنوعات کے شعبے میں قدم رکھنے کی خواہش ہے۔

سرمایہ کار ایپل کی ہارڈویئر مصنوعات کی فروخت پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں تاکہ کمپنی کی ترقی کے امکانات کا اندازہ لگایا جا سکے، کیونکہ اس کی سروسز سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ضابطہ جاتی دباؤ کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: ’ایپل میوزک‘ کی 11 سال بعد پاکستان میں باضابطہ انٹری، سبسکرپشن فیس بھی سامنے آگئی

ایپل نے اسمارٹ آلات کو کنٹرول کرنے کے لیے اپنی ’ہوم‘ ایپ 2016 میں متعارف کرائی تھی، جبکہ ہوم پوڈ اسمارٹ اسپیکرز 2018 میں مارکیٹ میں آئے، تاہم، ان مصنوعات کو الفابیٹ کے ’گوگل ہوم‘ اسپیکرز اور ایمیزون کی ’ایکو‘ سیریز سے سخت مقابلہ درپیش ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایپل کو 2 بڑے مسائل کا سامنا رہا ہے: مختلف کمپنیوں کے تیار کردہ اسمارٹ آلات کے ساتھ اپنی مصنوعات کو ہم آہنگ بنانا اور سری کی محدود صلاحیت، جس کے باعث وہ صارفین کو مفید جوابات فراہم کرنے میں پیچھے رہتی تھی۔

مزید پڑھیں: ایپل کو تاریخ کا سب سے بڑا جھٹکا، پیٹنٹ چوری کے کیس میں 5.7 بلین ڈالر کا ریکارڈ جرمانہ

ٹیکنالوجی ریسرچ ادارے ’ٹیکنالیسس ریسرچ‘ کے چیف تجزیہ کار باب اوڈونل کے مطابق، ایپل نے رواں موسمِ گرما میں گوگل کی معاونت سے سری کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا، تاہم اسمارٹ ہوم سسٹم قائم کرنے کا عمل اب بھی بہت سے صارفین کے لیے پیچیدہ ہے، جس کے باعث وہ اس کے فوائد سے پوری طرح مستفید نہیں ہو پاتے۔

اوڈونل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت میں پیش رفت بالآخر اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم ایپل کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ آیا اس کے پاس مختلف آلات کو آسانی سے جوڑنے کی مطلوبہ صلاحیت موجود ہے اور کیا وہ اپنے محدود نظام تک رہنے کے بجائے اسمارٹ ہوم کی وسیع تر ٹیکنالوجی کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے پر آمادہ ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp