کراچی کی مقامی جوڈیشل مجسٹریٹ (جنوب) کی عدالت نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیئر رہنما اور صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن سمیت 6 ملزمان کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 249-A (عدم ثبوت) کے تحت شراب برآمدگی کیس سے بری کردیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پراسیکیوشن ملزمان کے خلاف جرم ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی اور کیس میں پیش کیے گئے شواہد اور معائنہ رپورٹس میں تضاد پایا گیا۔
وکیل شرجیل میمن کا مؤقف
شرجیل انعام میمن کی وکیل عروشہ میمن نے بتایا کہ 2018 میں اسپتال سے بعض مبینہ بوتلیں برآمد ہونے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد تمام ملزمان کو بری کردیا ہے۔
ان کے مطابق کیمیائی تجزیے میں الکوحل کی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملے، جبکہ تمام ملزمان کے طبی ٹیسٹ بھی کروائے گئے تھے، جن کے نتائج کلیئر آئے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ شرجیل انعام میمن کی جانب سے عدالت میں حاضری سے استثنیٰ حاصل کیا گیا تھا۔
کیس کا پس منظر: ستمبر 2018 کا واقعہ
یہ معاملہ ستمبر 2018 کا ہے، جب شرجیل انعام میمن قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر اربوں روپے کی کرپشن کے ریفرنس میں جوڈیشل ریمانڈ پر کراچی کی سینٹرل جیل میں قید تھے۔ تاہم طبی وجوہات کی بنا پر وہ کراچی کے ضیاالدین اسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں ان کے کمرے کو سب جیل قرار دیا گیا تھا۔
چیف جسٹس کا اچانک دورہ
یکم ستمبر 2018 کو سابق چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اسپتال کے اس کمرے کا اچانک دورہ (سرپرائز وزٹ) کیا۔
بوتلوں کی برآمدگی کا دعویٰ
دورے کے دوران چیف جسٹس نے کمرے سے الکوحل (شراب) کی بوتلیں ملنے کا دعویٰ کیا اور برہم ہو کر شرجیل میمن کو فوری طور پر جیل منتقل کرنے کا حکم دیا۔
مقدمے کا اندراج
واقعے کے فوراً بعد کراچی کے بوٹ بیسن تھانے میں پولیس نے شرجیل میمن، ان کے ملازمین اور عملے کے خلاف تعزیراتِ پاکستان اور امتناعِ منشیات (حد) آرڈیننس کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
مقدمہ کے چشم دید گواہ
اس مقدمے کے چشم دید گواہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار تھے۔ یہی وجہ تھی کہ مقدمے کی سماعت کے دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب چشم دید گواہ کی گواہی کی اہمیت بڑھ گئی تھی، تاہم کوئی بھی گواہ سامنے نہ آسکا، جس کا اثر مقدمے پر پڑا۔
تفتیش اور کیمیائی تجزیہ (کیس کا موڑ)
مقدمہ درج ہونے کے بعد تفتیش کے دوران کیس میں کئی اہم موڑ آئے۔ شرجیل انعام میمن اور ان کے عملے نے مؤقف اختیار کیاکہ برآمد ہونے والی بوتلوں میں الکوحل نہیں بلکہ زیتون کا تیل اور شہد موجود تھا۔
کیمیائی معائنہ رپورٹ
بوتلوں سے حاصل کیے گئے مائع کی کیمیائی تجزیاتی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی کہ ان میں موجود مائع شراب نہیں بلکہ زیتون کا تیل اور شہد تھا۔
بلڈ ٹیسٹ رپورٹ
واقعے کے بعد شرجیل انعام میمن کے خون کے نمونے بھی لیبارٹری بھجوائے گئے تھے، جن کی طبی جانچ کی رپورٹ میں نشے کے اثرات کی موجودگی کی نفی کی گئی تھی۔
عدالت کا حتمی فیصلہ
کیس کی سماعت کے دوران شرجیل انعام میمن کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ پولیس اور پراسیکیوشن کے پاس موثر ثبوت موجود نہیں ہیں اور کیمیکل رپورٹس پہلے ہی کیس کو ملزمان کے حق میں ثابت کر چکی ہیں۔
عدالت نے فریقین کے دلائل اور آن ریکارڈ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد تمام 6 ملزمان (شرجیل میمن اور ان کے ملازمین/نامزد ملزمان) کو مقدمے سے بری کرنے کا حکم جاری کیا۔













