بھارت کی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ ممتا بینرجی پر ان کی رہائش گاہ کے قریب چاقو سے حملے کی کوشش کا الزام سامنے آیا ہے، تاہم پولیس نے واقعے کو تلخ کلامی قرار دیتے ہوئے ایک خاتون کو حراست میں لے لیا ہے۔
بھارتی میڈیا ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق ممتا بینرجی منگل کی شام تقریباً 6 بجے کولکتہ کے علاقے کالی گھاٹ میں واقع اپنی رہائش گاہ سے باہر نکل رہی تھیں کہ اس دوران ایک خاتون سے ان کا سامنا ہوا۔ ممتا بینرجی کی جماعت ترنمول کانگریس کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ خاتون نے نازیبا زبان استعمال کی اور چاقو سے حملے کی کوشش کی۔
جماعت کی جنرل سیکریٹری ڈولا سین نے پولیس کو دی گئی شکایت میں خاتون کی شناخت تنشٹھا ساہا کے نام سے کی اور دعویٰ کیا کہ وہ شہری رضاکار کے طور پر کام کرتی ہیں اور خود کو ممتا بینرجی کی بھانجی ظاہر کرتی ہیں۔ جماعت نے خاتون پر منشیات کے استعمال کا الزام بھی عائد کیا۔
#Breaking West Bengal Ex CM Mamata Banerjee allegedly attacked by a knife wielding woman near her residence this evening. pic.twitter.com/TDkjYuA3o0
— هارون خان (@iamharunkhan) October 13, 2026
ترنمول کانگریس کے ترجمان ساکیت گوکھلے نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ خاتون چاقو لے کر ممتا بینرجی کی رہائش گاہ تک پہنچی اور انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے واقعے میں سازش کے امکان پر بھی سوال اٹھایا۔
تاہم پولیس کے بیان میں چاقو یا حملے کی کوشش کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ پولیس کے مطابق 38 سالہ انوسویا ساہا نے سابق وزیراعلیٰ کا سامنا کیا، جس کے بعد تلخ کلامی ہوئی۔ ڈیوٹی پر موجود اہلکاروں نے خاتون کو حراست میں لے لیا، جبکہ ترنمول کانگریس کے ارکان کی جانب سے شکایت بھی درج کرائی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:انڈین بنگال میں ممتا بنرجی کو کیسے ہرایا گیا؟
ممتا بینرجی کی جماعت کے رہنماؤں کے مطابق مئی میں ریاستی انتخابات میں اقتدار سے محرومی کے بعد جماعت کے بعض رہنماؤں اور ارکان کو مختلف واقعات میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ اگست میں ممتا بینرجی نے دعویٰ کیا تھا کہ کولکتہ میں ان کی گاڑی پر بڑا پتھر پھینکا گیا، جس کے بعد انہیں کئی روز تک سینے میں درد رہا تھا۔














